Skip to main contentSkip to footer

اسرائیل انتخابات ،66فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ،کوئی جماعت اکثریت حاصل نہ کرسکی

اسرائیل انتخابات ،66فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ،کوئی جماعت اکثریت حاصل نہ کرسکی

اسرائیل میں عام انتخابات کے 66.3 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی کسی سیاسی اتحاد کو کنیسٹ(پارلیمان) میں حکومت بنانے کیلئے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی جزوی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے نیتن یاہو کے حامی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو مجموعی طور پر 54 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، جو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے سات نشستیں کم ہیں۔دوسری جانب سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جماعت یشار 21 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے اتحاد کو مجموعی طور پر 48 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں جزوی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے جوائنٹ لسٹ 12 جبکہ یونائیٹڈ عرب لسٹ چھے نشستوں پر آگے ہے

نیتن یاہو الیکشن سے قبل ایران پر حملے کیلیے بے چین، ٹرمپ نے روک دیا

جس کے بعد عرب جماعتوں کی مجموعی نمائندگی 18 نشستوں تک پہنچ سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہتا ہے تو عرب جماعتیں حکومت سازی کے عمل میں کنگ میکر کا کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ نہ نیتن یاہو کا بلاک اور نہ ہی اپوزیشن اتحاد اپنے طور پر پارلیمانی اکثریت حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے انتخابات میں ووٹر ٹرن آٹ 77 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے، جو حالیہ برسوں میں غیرمعمولی طور پر بلند شرح قرار دی جا رہی ہے اب حتمی نتائج اور بعد ازاں اتحادی مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ اسرائیل کی اگلی حکومت کون تشکیل دیتا ہے۔اسرائیل میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں میں سے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تنہا حکومت نہیں بنا سکی اس لیے حکومت ہمیشہ اتحادی جماعتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتی ہے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے راہنماں سے مشاورت کرتے ہیں اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں

ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات کے نتائج مشروط طور پر قبول کرنے کا عندیہ

جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ اس کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے بہترین امکانات موجود ہیں نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں اگر مذاکرات مکمل نہ ہو سکیں تو وہ مزید 14 دن کی توسیع بھی طلب کر سکتا ہے۔اگر پہلے امیدوار کی کوشش ناکام ہو جائے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں اگر وہ بھی مطلوبہ اتحادی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو کنیسٹ کے ارکان کسی تیسرے امیدوار کے نام پر اتفاق کر کے اسے بھی موقع دے سکتے ہیں اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں اسرائیل میں سیاسی تقسیم اور جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث 2019 سے 2022 کے درمیان پانچ مرتبہ عام انتخابات کرانا پڑے تھے۔

سلک روڈ فیسٹیول،خطاطی چین اور پاکستان کے درمیان دوستی کا پل بن گئی

نیتن یاہو زندہ یا ہلاک؟ اے آئی ویڈیو نے شکوک و شبہات بڑھادیئے

اگلی پوسٹ
ہمیں پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا، ایمان مزاری
پچھلی پوسٹ
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات کے نتائج مشروط طور پر قبول کرنے کا عندیہ