پاکستان میں منعقدہ سلک روڈ فیسٹیول میں پاکستان کے 75 نمائندوں نے مشترکہ طور پر ساڑھے سات میٹر طویل طومار پر خطاطی کا فن پارہ تخلیق کیا۔ اس منفرد تقریب کا اختتام دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سالہ سفر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی علامت کے طور پر ہوا۔گوادر پرو کے مطابق تقریب کا موضوع چینی خطاطی کے مشہور شاہکار ”لانٹنگ شو” (آرکڈ پویلین کا دیباچہ) تھا، جس میں چین کے 40 اور پاکستان کے 35 شرکا نے حصہ لیا۔ شرکا نے کلاسیکی خطاطی کے نمونوں کو ایک ہی طویل طومار پر مشترکہ طور پر تحریر کیا۔رپورٹ کے مطابق لانٹنگ شو مشرقی جن خاندان کے معروف خطاط وانگ شی ڑی کا ایک عظیم فن پارہ ہے، جسے چینی خطاطی کے رواں طرزِ تحریر کا بلند ترین نمونہ تصور کیا جاتا ہے، یہ شاہکار 353 عیسوی میں آرکڈ پویلین میں اہلِ علم کے ایک اجتماع کے موقع پر تخلیق کیا گیا تھا۔ اپنی دلکش، نفیس اور رواں قلم کاری کے علاوہ یہ فن پارہ زندگی، ناپائیداری اور انسانی تعلقات سے متعلق فلسفیانہ خیالات کے باعث بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
نیتن یاہو الیکشن سے قبل ایران پر حملے کیلیے بے چین، ٹرمپ نے روک دیا
رپورٹ کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد لوگوں کو روایتی چینی خطاطی کے حسن سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ چین کے بھرپور ثقافتی ورثے اور چینی رسم الخط میں پوشیدہ فلسفیانہ و فنی اقدار کو سمجھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ خطاطی کا یہ فن صدیوں سے اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔تقریب میں دونوں معاشروں کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں صنعتی ہنرمند، تعمیراتی کارکن، زرعی شعبے سے وابستہ افراد، ثقافتی علوم کے ماہرین، سائنسی محققین، جامعات کے اساتذہ و طلبہ، کاروباری شخصیات اور فنکار شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق خطاطی کی یہ تقریب سلک روڈ کے موضوع پر منعقدہ مصوری اور خطاطی کی نمائش کے ساتھ منعقد کی گئی، جس میں تاریخی شاہراہِ ریشم سے متعلق تصاویر کا مجموعہ بھی پیش کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر مکمل ہونے والے ساڑھے سات میٹر طویل طومار کو اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی گیلری میں عوامی نمائش کے لیے رکھ دیا گیا، جہاں اسے ایک ماہ تک دیکھا جا سکے گا۔
چینی ڈیری ماڈل پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کیلئے قابلِ غور مثال
یہ تقریب اسلام آباد میں منعقد ہونے والے دوسرے بین الاقوامی سلک روڈ فیسٹیول 2026ء کا حصہ تھی، جس کا انعقاد 24 اور 25 اکتوبر کو پی این سی اے میں کیا گیا۔ فیسٹیول میں سفارت کاروں، سیاحت کے شعبے سے وابستہ حکام اور کاروباری نمائندوں نے شرکت کی، جس کا مقصد ثقافتی تبادلے اور علاقائی روابط کو فروغ دینا تھا۔گوادر پرو کے مطابق سلک روڈ انٹرپرائزز نے پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اشتراک سے اس فیسٹیول کا اہتمام کیا۔ اس کا مقصد قدیم شاہراہِ ریشم کی تاریخی میراث کو عصرِ حاضر میں ثقافتی سفارت کاری اور عوامی سطح پر باہمی روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنانا ہے۔

