Skip to main contentSkip to footer

دہشتگردی خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، میاں افتخار

دہشتگردی خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، میاں افتخار

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ گورنر اور ان کی مشاورتی کونسل سمجھتی ہے کہ جو کام وہ کر سکتے ہیں، وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ان کے پاس نیشنل ایکشن پلان موجود ہے، اس لیے وقت ضائع کیے بغیر خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا قیام امن کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے جامع اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔نوشہرہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے دیرینہ کارکن عبدالصمد پراچہ کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر گورنر اور ان کی مشاورتی کونسل یہ اقدامات نہیں کر سکتے تو یہ ان کی خام خیالی ہوگی کہ جو کام کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، وہ یہ لوگ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن کے نام پر خیبر پختونخوا کے چار اضلاع اور قبائلی علاقوں کو الگ انتظامی ڈھانچے میں ڈال کر صوبے کو عملا تقسیم کر دیا گیا ہے

پیٹرولیم کے بعد اب ایل پی جی کی قیمتیں بھی امپورٹ پیریٹی پرائس پر طے ہونگی

جبکہ امن ہی کے نام پر پختونوں کے معدنی وسائل، اٹھارویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی خودمختاری کے خاتمے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، جو ہمیں منظور نہیں اور نہ ہی ایسا کسی کو کرنے دیں گے۔اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا گورنر بے اختیار ہے کیونکہ وہ وزیراعظم سے اختیارات کی بھیک مانگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نوشہرہ کے رہنما عبدالصمد پراچہ پارٹی کے لیے کسی سرمایہ سے کم نہیں تھے۔ وہ انتہائی ایماندار، مخلص اور متحرک کارکن تھے۔ ان کی وفات سے پارٹی ایک مخلص اور متحرک کارکن سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کی سماجی، سیاسی اور عوامی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں مشترکہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، جو دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام سے ہی ممکن ہے اور یہی پوری قوم کی خواہش بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا جنگوں اور تشدد کے خلاف ہے، جس کا ثبوت امریکی صدر ٹرمپ کی ناکامی ہے۔

سعودی عرب سیاحتی ویزا،4نئے ممالک کو سہولت فراہم کر دی گئی

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد تجاوزات کے خلاف آپریشن پر جتنا زور دیا گیا ہے، اگر اس سے تھوڑی سی کوشش صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بھی کی جاتی تو بہتر ہوتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کی ایک سیاسی جماعت خود مذاکرات بھی کرتی ہے اور پھر انہی مذاکرات سے روگردانی کرکے انہیں غلط قرار دے کر مکر جاتی ہے، جو درست نہیں۔ فوج کی ذمہ داری ملکی حفاظت، سیاست دانوں کا کام آئین اور آئینی اداروں کی بالادستی جبکہ الیکشن کمیشن کے ذمے مقررہ وقت پر صاف، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ہے۔ ملک کو صحیح سمت میں لے جانے کے لیے یہی سب سے ضروری ہے۔

 

فرنٹیئر کالج برائے خواتین پشاور میں ثقافتی شو کا معاملہ محکمہ اعلیٰ تعلیم پہنچ گیا

اگلی پوسٹ
تجارتی خسارہ 16 فیصد بڑھ کر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا
پچھلی پوسٹ
فرنٹیئر کالج برائے خواتین پشاور میں ثقافتی شو کا معاملہ محکمہ اعلیٰ تعلیم پہنچ گیا