Skip to main contentSkip to footer

فرنٹیئر کالج برائے خواتین پشاور میں ثقافتی شو کا معاملہ محکمہ اعلیٰ تعلیم پہنچ گیا

فرنٹیئر کالج برائے خواتین پشاور میں ثقافتی شو کا معاملہ محکمہ اعلیٰ تعلیم پہنچ گیا

صوبائی دارالحکومت پشاور کے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ فرنٹیئر کالج برائے خواتین میں منعقدہ ثقافتی شو کا معاملہ محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا تک پہنچ گیا جس پر محکمہ نے نوٹس لیتے ہوئے آئندہ تقریبات میں مردوں کی غیر ضروری شرکت روکنے اور کالج کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔سوشل میڈیا پر زیرگردش محکمہ اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز اینڈ لائبریریز خیبرپختونخوا نے گورنمنٹ فرنٹیئر کالج فار ویمن پشاور کی پرنسپل کے نام جاری ایک مراسلہ میں کالج کی تقریبات میں مردوں کی غیر ضروری شرکت کی روک تھام اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ گزشتہ روزمحکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ میں کالج کی مختلف تقریبات میں مردوں کو بار بار مدعو کرنے اور ان کی شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں ڈیجیٹل ذرائع کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگیں

مراسلہ کے مطابق اس طرزِ عمل کے باعث والدین، اساتذہ اور کالج کے عملے میں تشویش پائی جاتی ہے جس سے ادارے کی روایات اور نظم و ضبط کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔مراسلہ میں کالج کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ مراسلہ کے مطابق ان پلیٹ فارمز کو تعلیمی کامیابیوں، طالبات کی کارکردگی اور ہم نصابی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے بجائے ذاتی تشہیر اور خودنمائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس طرزعمل کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر منفی تبصرے سامنے آئے ہیں جس سے تاریخی حیثیت کی حامل ادارے کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔محکمہ نے کالج کی پرنسپل کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ تقریبات میں مردوں کی غیر ضروری شرکت سے اجتناب کیا جائے تاہم کسی سرکاری ضرورت کے تحت مرد افراد کی شرکت یا انہیں مدعو کرنے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن سے پیشگی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ مزید واضح کیا گیا ہے کہ کالج کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس صرف ادارہ جاتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے

حیات آباد میں نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد قتل

جبکہ کسی بھی قسم کا مواد شائع کرنے سے قبل اس کی مکمل جانچ پڑتال اور مجاز اتھارٹی سے منظوری یقینی بنائی جائے تاکہ ادارے کے وقار، نظم و ضبط اور ساکھ کا تحفظ کیا جاسکے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں فرنٹیئر کالج برائے خواتین پشاور میں ثقافتی سرگرمیوں کے نام پر ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں خواتین اساتذہ اور طالبات کی تقریب کے دوران مردوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ مذکورہ پروگرام کی تصاویر اور ویڈیو کلپس مبینہ طور پر فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہوئے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے اور تنقید سامنے آئی تھی۔ بعدازاں یہ معاملہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی توجہ کا مرکز بنا اور کالج انتظامیہ کو نئی ہدایات جاری کی گئیں۔

 

دشمن کے ریڈار کا سراغ لگانے والا امریکی جاسوس طیارہ برطانیہ پہنچ گیا

اگلی پوسٹ
دہشتگردی خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، میاں افتخار
پچھلی پوسٹ
سعودی عرب سیاحتی ویزا،4نئے ممالک کو سہولت فراہم کر دی گئی