Skip to main contentSkip to footer

زندگی کی دوڑ اور انسان کی تھکن

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی

قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com) (بریڈفورڈ، انگلینڈ)

 

زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا کہ آخر ہم بھاگ کس لیے رہے ہیں۔ بہتر مستقبل، دولت، عزت اور کامیابی کی خواہش بری نہیں، لیکن جب ان کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنا سکون کھو بیٹھیں تو رک کر سوچنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہم ہر روز خود سے کہتے ہیں کہ بس یہ کام ہو جائے، پھر آرام کریں گے، مگر اگلے دن ایک نئی ذمہ داری سامنے آ جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ بڑا بننا ہے، کچھ حاصل کرنا ہے اور دنیا میں اپنا نام پیدا کرنا ہے۔ ہم محنت کرتے ہیں، مشکلات برداشت کرتے ہیں اور اپنی خواہشات کو پیچھے رکھتے ہیں، یہاں تک کہ تھکن ہماری زندگی کا معمول بن جاتی ہے۔ بعض اوقات انسان کو دوسروں سے زیادہ اپنے آپ سے سچ بولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ مسلسل محنت اور کامیابیوں کے باوجود دل بے سکون کیوں ہے؟ آخر ایسا کیا ہے جس کی تلاش میں ہم اپنی زندگی کے خوبصورت لمحے بھی نظر انداز کر رہے ہیں؟

 

بچپن میں ہر انسان کے اپنے خواب ہوتے ہیں۔ کوئی عالم بننا چاہتا ہے، کوئی ڈاکٹر یا انجینئر، جبکہ کوئی دنیا کو سمجھنے اور نئی چیزیں سیکھنے کا شوق رکھتا ہے۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ والدین کی توقعات، معاشرتی دباؤ اور دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش ہماری سوچ بدلنے لگتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کا روشن مستقبل چاہتے ہیں، اور یہ خواہش بالکل فطری ہے۔ لیکن کبھی کبھی بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انہیں ہر حال میں بڑا نام بنانا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر غیر معمولی کامیابی حاصل نہ کی تو شاید ان کی محنت اور قابلیت کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ یوں انسان اپنی خوشی سے زیادہ دوسروں کی توقعات کو اہمیت دینے لگتا ہے۔ وہ اپنی قدر کو ڈگریوں، عہدوں، دولت اور شہرت سے ناپتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر وہ مسلسل آگے نہیں بڑھ رہا تو زندگی میں پیچھے رہ جائے گا۔ پھر زندگی اہداف کی ایک لمبی فہرست بن جاتی ہے۔ پہلے تعلیم، پھر اچھی ملازمت، مالی استحکام، اپنا گھر، بیرون ملک سفر اور معاشرے میں مقام بنانے کی خواہش۔ ایک مقصد پورا ہوتا ہے تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے، لیکن خود کے لیے وقت نکالنا ہمیشہ مؤخر رہتا ہے۔

 

ہم کاموں کی فہرست بناتے ہیں، انہیں مکمل کرتے ہیں اور کچھ دیر خوش ہوتے ہیں، مگر جلد ہی اگلا ہدف ذہن میں آ جاتا ہے۔ یوں ہم مستقبل کی تیاری میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ آج کی خوشیوں کو محسوس کرنا بھول جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ دنیا کے درجنوں ممالک دیکھ لیتے ہیں، دولت کماتے ہیں اور اپنے خواب پورے کر لیتے ہیں۔ اس کے باوجود اندر ایک خلا باقی رہ سکتا ہے۔ بظاہر زندگی مکمل دکھائی دیتی ہے، لیکن دل اس سکون سے محروم رہتا ہے جس کی تلاش میں برسوں محنت کی ہوتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی خوشی کو ہمیشہ آنے والے کل سے جوڑ دیتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ اچھی ملازمت، اپنا گھر یا بہتر مالی حالات مل جائیں تو سکون آ جائے گا۔ لیکن منزل ملتے ہی ایک نئی خواہش سامنے آ جاتی ہے اور سکون پھر دور چلا جاتا ہے۔ اس دوڑ میں سب سے پہلے نیند متاثر ہوتی ہے، پھر خاندان اور دوستوں کے لیے وقت کم ہونے لگتا ہے۔ ہم تھکن کے باوجود کام کرتے رہتے ہیں اور خود کو سمجھاتے ہیں کہ ابھی ہمت نہیں ہارنی۔ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر رفتار کم کی تو دوسرے ہم سے آگے نکل جائیں گے۔

آسٹریلوی شہری کو مٹی سے لاکھوں ڈالرز کا سونا مل گیا

لیکن زندگی کوئی مقابلہ نہیں جس میں ہر وقت دوسروں سے آگے رہنا ضروری ہو۔ ہر شخص کے حالات اور ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں۔ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر اپنی زندگی کو کم تر سمجھنے کے بجائے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم خود کتنے مطمئن ہیں۔ مسلسل مصروف رہنے کی عادت انسان کو اپنی ذات سے بھی دور کر سکتی ہے۔ اس کی پہچان صرف ملازمت، عہدے اور کامیابیوں تک محدود ہو جاتی ہے۔ جب کچھ وقت فارغ ملتا ہے تو اسے سمجھ نہیں آتا کہ اپنے ساتھ وقت کیسے گزارے، کیونکہ اس نے ہمیشہ مصروف رہنا سیکھا ہوتا ہے۔ ایسے میں اپنے آپ کو دوبارہ سمجھنا ضروری ہے۔ ہم صرف ملازم، کاروباری شخص یا خاندان کے ذمہ دار فرد نہیں، بلکہ احساسات رکھنے والے انسان بھی ہیں۔ ہمیں بھی محبت، خوشی، آرام اور اپنائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کامیابی کے ساتھ کبھی کبھی انا بھی بڑھ جاتی ہے۔ انسان اپنے نام، عہدے اور لوگوں کی تعریف کو اپنی اصل قدر سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن ہماری اہمیت صرف ان چیزوں سے نہیں، بلکہ ہمارے کردار، رویے اور دوسروں کے ساتھ ہمارے سلوک سے بھی پہچانی جاتی ہے۔

ٹرمپ کی مختصر ترین مدت کیلئے پریس سیکریٹری نے خاموشی توڑ دی

ہمیں یہ ماننے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ ہم تھک گئے ہیں۔ ہر وقت مضبوط دکھائی دینا ضروری نہیں، اور نہ ہی ہر مشکل اکیلے برداشت کرنا بہادری ہے۔ کبھی کسی اپنے سے دل کی بات کرنا، کچھ دیر آرام کرنا یا نئی ذمہ داری سے انکار کرنا بھی درست فیصلہ ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مصروف انسان کو کامیاب اور آرام کرنے والے کو سست سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم دوسروں سے ان کے کام کے بارے میں تو پوچھتے ہیں، لیکن کم ہی جاننا چاہتے ہیں کہ وہ خوش بھی ہیں یا نہیں۔ ہمیں دوسروں کی کامیابی کے ساتھ ان کے سکون کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ زندگی کی خوشی صرف بڑی کامیابیوں میں نہیں ہوتی۔ گھر والوں کے ساتھ چائے پینا، دوست سے دل کی بات کرنا، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اور کسی ضرورت مند کی مدد کرنا بھی قیمتی لمحے ہیں۔ اکثر یہی چھوٹی خوشیاں زندگی کو خوبصورت بناتی ہیں۔ ہمیں دوسروں پر ہر وقت آگے بڑھنے کا دباؤ بھی نہیں ڈالنا چاہیے۔ اگر کوئی پہلے ہی بہت کچھ کر رہا ہے تو اسے مزید ذمہ داریاں دینے سے پہلے اس کی کیفیت پوچھنی چاہیے۔ کسی کی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہر وقت اپنی قابلیت ثابت کرنا پڑے۔

نیتن یاہو معمولی برتری کے باوجود حکومت سازی کیلئے کوشاں

کبھی انسان کا دل صرف آرام کرنے کو چاہتا ہے۔ وہ کسی نئے منصوبے یا اضافی کام میں شامل نہیں ہونا چاہتا، بلکہ سکون سے سونا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہے۔ ایسے احساسات کو سستی سمجھنے کے بجائے سمجھنا چاہیے کہ ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ ذمہ داریاں نبھانا، خواب پورے کرنا اور مستقبل کے لیے محنت کرنا ضروری ہے، لیکن اپنی صحت اور نیند کو مسلسل نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اگر تھکن طویل عرصے تک برقرار رہے تو اسے معمول سمجھ کر برداشت کرنے کے بجائے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ دینی چاہیے۔ زندگی کے کسی موڑ پر احساس ہوتا ہے کہ دوسروں کو خوش کرنے اور خود کو ثابت کرنے میں بہت وقت گزر گیا۔ اب کچھ وقت اپنے لیے بھی نکالنا چاہیے۔ ہر موقع قبول کرنا اور ہر شخص کو خوش رکھنا ممکن نہیں، اور کبھی کسی چیز سے انکار کرنا ہی سکون کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ کامیابی صرف دولت، شہرت، سفر یا بڑے عہدے حاصل کرنے کا نام نہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ ہم نے اپنے پیاروں کو کتنا وقت دیا، اپنی صحت کا کتنا خیال رکھا اور خود کو کتنا سکون بخشا۔ زندگی صرف منزل تک پہنچنے کا نہیں، راستے میں ملنے والی خوشیوں کو محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔ ہمیں ہر وقت کسی کو کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر تھک گئے ہیں تو رک سکتے ہیں، اپنی ترجیحات بدل سکتے ہیں اور آرام کے لیے وقت نکال سکتے ہیں۔ کبھی خود سے یہ کہنا بھی کافی ہوتا ہے کہ بہت محنت کر لی، اب کچھ دیر اپنے لیے بھی جینا ہے، کیونکہ زندگی کا مقصد صرف کامیاب ہونا نہیں، سکون کے ساتھ جینا بھی ہے۔

 

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی کے خلاف شیخ حسینہ اقوام متحدہ پہنچ گئیں

پچھلی پوسٹ
بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی کے خلاف شیخ حسینہ اقوام متحدہ پہنچ گئیں