Skip to main contentSkip to footer

عوامی احتجاج نہ ہونا پی ٹی آئی کے دعوؤں پر بڑا سوالیہ نشان ہے، لیاقت بلوچ

عوامی احتجاج نہ ہونا پی ٹی آئی کے دعوؤں پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ لیاقت بلوچ

پشاور: جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے لانگ مارچ کے دوران بڑے بڑے دعوے کیے، مذاکرات بھی ہوئے، ایمرجنسی اور گورنر راج بھی نافذ ہوا، لیکن تمام تر عوامی مینڈیٹ اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ احتجاج نہ ہونے سے غیر مقبول اقدامات کو تقویت ملی ہے۔ پی ٹی آئی اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف بھی عوامی سطح پر باہر نہیں نکلی۔ صوبے میں ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امن کا قیام اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ اس وقت حکومت، اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی ایک گہری خلیج موجود ہے، جسے ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بامعنی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ ملک میں پسند اور ناپسند کا ڈاکٹرائن ختم ہونا چاہیے۔ صوبے کا ایک اہم اور سنگین مسئلہ معدنیات کا ہے، اس لیے معدنی وسائل پر صوبے کا حقِ ملکیت تسلیم کیا جائے اور اس حوالے سے تمام معاملات شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے جائیں۔

حافظ آباد میں تبلیغی جماعت کی بس نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق

لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت ہوش مندی کا مظاہرہ کرے اور کسی عالمی سازش کا حصہ نہ بنے۔ دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ باہمی تنازعات اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے صوبائی ہیڈکوارٹر مرکز اسلامی پشاور میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ والے مخصوص بارہ اضلاع کے امراء اور ذمہ داران کے اہم اجلاس میں شرکت کے بعد صوبائی زمہ داران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، صوبائی امراء عبدالواسع، عنایت اللہ خان، عبدالرزاق عباسی، صاحبزادہ ہارون الرشید، شاہ فیصل آفریدی سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔

اسرائیل انتخابات ،66فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا عندیہ خوش آئند ہے، جماعت اسلامی اس کا خیرمقدم کرتی ہے اور بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت امن و امان کی صورتحال کو جواز بنا کر صوبے کے کسی بھی حصے کو بلدیاتی نمائندگی سے محروم نہ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئی پی پیز اور پیٹرولیم لیوی جیسے بھتہ ٹیکسز کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمارا لانگ مارچ وزیراعظم کی درخواست پر مؤخر کیا گیا تھا۔ وزیراعظم سے ملاقات میں امیر جماعت اسلامی نے پیداواری لاگت میں کمی، معیشت کی بہتری اور عوام کو روزگار کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔ مذاکرات کے لیے حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور کل ان کمیٹیوں کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کا اعلان نہ کیا گیا تو ملتان میں رکا ہوا لانگ مارچ نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

 

قائم مقام امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی اپوزیشن میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے عوامی مینڈیٹ کے تحت قائم حکومت کے غیر آئینی طریقے سے خاتمے کے لیے پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت بھی مخالفت کی تھی۔ اسی طرح 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی بھی مخالفت کی اور آج 28ویں آئینی ترمیم کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ہائبرڈ نظام کو مزید تقویت دینے کی کوششوں کی بھی جماعت اسلامی مخالفت کرے گی۔ لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے۔

 

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے بھی نئے صوبوں کی حمایت کردی

اگلی پوسٹ
عتیق الرحمن نے جماعت اسلامی ضلع پشاور کے امیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
پچھلی پوسٹ
صلاح الدین ایوبی کی قبر کو جب 600 سال بعد کھولا گیا