وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قرضوں کی ادائیگی اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے تقریبا 1.3 ارب ڈالر کی قسط جلد ملنے کی توقع ہے، فی الحال آئی ایم ایف کے پروگرام میں اضافے یا تبدیلی کی ضرورت نہیں، معاشی صورتحال میں کمزوری آئی تو پھر آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاسکتا ہے، پاکستان اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے کمرشل بینکوں اور دیگر ذرائع سے رابطوں پر غور کر رہا ہے
زرمبادلہ ذخائر تقریبا 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں ۔ان خیالات خیالات کا اظہار انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں جاری ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر عالمی میڈیا سے گفتگو اور عالمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتوں میں کیا ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان فنڈنگ کے لیے تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، یورو بانڈ، سکوک اور کمرشل قرضوں پر کام جاری ہے
پاکستان اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کمرشل بینکوں اور دیگر ذرائع سے رابطوں پر غور کر رہا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت تمام دستیاب آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ زرمبادلہ ذخائر تقریبا 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔ 27 مارچ تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 16.4 ارب ڈالر کی سطح پر تھے
جو اس وقت تقریبا تین ماہ کی درآمدات کے لئے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلی بار 25 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈ جاری کرنے جارہا ہے، پانڈا بانڈ پروگرام کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر تک ہوگا، اے ڈی بی اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی سپورٹ ہوگی، رواں مالی سال ترسیلات زر 41.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، رواں مالی سال شرح نمو تقریبا 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ مشرق وسطی جنگ کے باعث تیل مہنگا ہونے سے معیشت پر دبائو بڑھا، پاکستان اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر بنانے پر بھی غور کر رہا ہے، وزیر خزانہ نے ایل پی جی اور ایندھن کے ذخائر بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیر خزانہ نے قابل تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی کا عندیہ بھی دے دیا۔ محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تمام بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہے اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے گا۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت 1.3 ارب ڈالر کی اگلی قسط جلد موصول ہونے کی توقع ہے، جس سے زرمبادلہ ذخائر کو مزید سہارا ملے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا متحدہ عرب امارات کے قرض کی جگہ سعودی عرب سے نیا قرض لینے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ اس وقت تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آگے بڑھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کے لیے ذخائر کو اس سطح پر برقرار رکھنا ہماری ترجیح ہے۔نہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام میں مشرقِ وسطی کی جنگ کی وجہ سے فی الحال کسی تبدیلی کی درخواست نہیں کی گئی، لیکن اگر ضرورت پڑی تو آنے والے ہفتوں میں اس پر بات کی جا سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کو صرف تجارتی ذخائر پر انحصار کرنے کے بجائے ایندھن اور ایل پی جی کے اسٹریٹجک ذخائر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ جب سپلائی میں اس طرح کے بڑے جھٹکے لگتے ہیں تو یہ ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ ہمیں توانائی کے متبادل اور شمسی ذرائع کی طرف تیزی سے منتقل ہونا چاہیے۔ دریں اثناوفاقی وزیر خزانہ، سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں جاری ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کے لئے سعودی فنڈ برائے ترقی کی مسلسل معاونت پر اظہارِ تشکر کیا اور مستقبل میں ترقیاتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے سعودی عرب کے وزیر خزانہ کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔گفتگو کے دوران مشرق وسطی میں جاری کشیدگی،اس کے عالمی توانائی سلامتی پر اثرات اور ممکنہ معاشی نتائج پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے اس تنازع کے جلد اور پرامن حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے خطے میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور ترقیاتی منصوبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سنا دی۔ کہا آئی ایم ایف سے تقریبا 1.3 ارب ڈالر کی قسط جلد ملنے کی توقع ہے۔وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف ڈائریکٹر جہاد اظہور اور پاکستان کیلئے آئی ایم ایف مشن ٹیم سے بھی ملاقاتیں کیں،
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب امریکی محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری سے بھی ملے، سعودی فنڈ برائے ترقی کے سی ای او،ماسٹرکارڈ کے چیف گلوبل افیئرز سے بھی ملاقات کیں۔ وزیر خزانہ نے سٹاف لیول معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ جلد اس کی منظوری دے گا تاکہ پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام کی رفتار برقرار رہے۔ملاقات کے دوران سینیٹر اورنگزیب نے مشرق وسطی میں جاری تنازع کے پاکستان کی معیشت پر اثرات سے آگاہ کیا اور اسے حالیہ دور کے بڑے سپلائی شاکس میں سے ایک قرار دیا۔
مہگائی کے بحران کے حوالے سے محمد اورنگزیب کی گفتگو
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اس بحران کے دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات، خاص طور پر معاشی نمو اور مہنگائی کے حوالے سے، موثر انداز میں نمٹ رہی ہے، انہوں نے یورو بانڈ کی کامیاب ادائیگی کا بھی ذکر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تمام آئندہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی مالی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرے گی۔ فریقین نے مالیاتی اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت اور محصولات بڑھانے کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے خصوصا تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر خزانہ نے اس موقع پر پاکستان میں کاروبار دوست ماحول کے قیام، سرمایہ کاروں کیلئے سہولیات میں بہتری اور مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا تاکہ پائیدار اقتصادی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔بات چیت میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے، برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری کے بہا میں آسانی اور تجارتی روابط کو مزید موثر بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
فریقین نے جاری تجارتی مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا اور باہمی اقتصادی تعاون میں بہتری کے رجحان کو سراہا، ملاقات میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی مفاد پر مبنی نتائج اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کیلئے تعاون کو مزید وسعت دیتے رہیں گے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری برائے بین الاقوامی امور جوناتھن گرینسٹین سے بھی ملاقات کی،
جس میں معاشی اصلاحات اور بیرونی شعبے پر تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والے سٹاف لیول معاہدے پر روشنی ڈالی اور اصلاحاتی پروگرام کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کی ہے اور حکومت آئندہ تمام بیرونی مالی ذمہ داریوں کو بروقت ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔دونوں فریقین نے مشرق وسطی میں جاری تنازع کے معاشی اثرات پر بھی بات چیت کی،
خاص طور پر ترسیلات زر اور پاکستان کے بیرونی شعبے پر اس کے اثرات پر غور کیا گیا، وزیر خزانہ نے امریکی حکام کو اس صورتحال کے براہ راست اور بالواسطہ اثرات سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا اور ایک مضبوط اور متنوع اقتصادی شراکت داری کے قیام پر اتفاق کیا،
جو علاقائی استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف پر مبنی ہو۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی چیف گلوبل افیئرز اینڈ پالیسی ٹکر فوٹ سے بھی ملاقات ہوئی ، فریقین نے پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے، مالی شمولیت بڑھانے اور فِن ٹیک شعبے میں جدت کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں جانب سے پاکستان میں محفوظ، جامع اور جدید ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کیلئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،
ملاقات میں سائبر سکیورٹی، سرحد پار مالی لین دین اور ترسیلات زر سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے گوگل کے نائب صدر اور گلوبل ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کرن بھاٹیا سے بھی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان میں گوگل کے جاری اقدامات کو سراہا، خاص طور پر مصنوعی ذہانت(اے آئی ) کے شعبے میں تربیت اور استعداد بڑھانے کے پروگرامز کو اہم قرار دیا۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان میں گوگل کروم بکس کی مقامی تیاری کے آغاز اور جولائی 2026 میں پاکستان میں دفتر قائم کرنے کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیا۔دونوں فریقین نے حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان جاری اور مجوزہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا، جن کا مقصد مصنوعی ذہانت کے فروغ اور اسے معیشت کے اہم شعبوں، خصوصا زراعت اور صنعت میں استعمال میں لانا ہے۔دونوں جانب سے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے وسیع تر ایجنڈے کے تحت باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
امریکی حکام نے کب کب پاکستان کے دورے کیے، تفصیلات منظر عام پر آگئیں
