Site icon bnnwatch.com

اسلام آباد مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، وینس اور قالیباف میں تلخ کلامی

اسلام آباد مذاکرات

اسلام آباد مذاکرات کے دوران اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب وہ کچھ ہوا جو دہائیوں میں نہیں ہوا تھا، لیکن اتنی محنت کے باوجود نتیجہ ادھورا رہ گیا۔ امریکہ اور ایران کے اعلی حکام کے درمیان ہونے والے ان تاریخی اسلام آباد مذاکرات کی اندرونی کہانی کے مطابق کہ یہ رات کسی فلمی منظر سے کم نہیں تھی، جہاں امیدیں اور مایوسیاں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔

برطانوی خبر رساں ا دارے رائٹرز کے مطابق اسلام آباد مذاکرات ہوٹل کے اندر دو الگ الگ ونگز بنائے گئے تھے، ایک امریکیوں کیلئے اور دوسرا ایرانیوں کے لیے، جبکہ ایک مشترکہ کمرے میں پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں آمنے سامنے گفتگو ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، سکیورٹی اتنی سخت تھی کہ مرکزی کمرے میں موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں تھی،

جس کی وجہ سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کو اپنے اپنے ملکوں میں پیغام بھیجنے کے لیے بار بار کمرے سے باہر آنا پڑتا تھا، اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب شدید امید پیدا ہوئی کہ شاید آج کوئی بڑا معاہدہ ہو جائے گا۔ اسلام آباد مذاکرات سے جڑے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں فریقین ایک معاہدے کے 80 فیصد تک قریب پہنچ چکے تھے، لیکن پھر کچھ ایسے معاملات سامنے آئے جن پر موقع پر فیصلہ کرنا ناممکن تھا۔

ایرانی ذرائع نے بتایا کہ شروع میں ماحول انتہائی بوجھل اور تلخ تھا، اور پاکستان کی جانب سے ماحول کو خوشگوار بنانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ذرائع نے کہا کہ تاہم اتوار کی صبح ہوتے ہوتے تلخی کچھ کم ہوئی اور بات یہاں تک پہنچی کہ شاید مذاکرات میں ایک دن کی توسیع کر دی جائے، لیکن پھر ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے پیچیدہ مسائل پر بات دوبارہ بگڑ گئی۔

 

 

اسلام آباد مذاکرات میں تلخ کلامی کی وجہ کیا بنی 

کمرے کے اندر کا حال بتاتے ہوئے ایک ذریعے نے بتایا کہ جب ضمانتوں اور پابندیوں کے خاتمے کی بات آئی تو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا لہجہ سخت ہو گیا۔ انہوں نے امریکی وفد سے سوال کیا کہ ہم آپ پر کیسے بھروسہ کریں جب جنیوا مذاکرات کے صرف دو دن بعد ہی ہم پر حملہ کر دیا گیا؟

ذرائع کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک موقع پر تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ کمرے سے باہر اونچی آوازیں سنائی دینے لگیں، جس پر پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مداخلت کی، چائے کا وقفہ کروایا اور دونوں فریقین کو دوبارہ الگ الگ کمروں میں بھیج دیا تاکہ غصہ ٹھنڈا ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکا کا موقف واضح تھا کہ وہ کسی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، جبکہ ایران کا مطالبہ تھا کہ ان پر لگی تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور ان کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔اسلام آباد مذاکرات کے اگلے روز اتوار کی صبح جب جے ڈی وینس میڈیا کے سامنے آئے تو انہوں نے اسے امریکا کی جانب سے آخری اور بہترین پیشکش قرار دیا اور کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں

لاہور ایئرپورٹ باضابطہ طور پر روڈ ٹو مکہ منصوبے میں شامل
 

 

Royal Seginus Hotel Antalya 2025: Prices, All-Inclusive Guide & Honest Review
Exit mobile version