امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ روکنے کیلئے پاکستان میں اسلام آباد ایکارڈ کا انعقاد کیا گیا اور جنگ بندی کیلئے دونوں جانب سے تجاویز پیش کی گئیں جن میں کئی تجاویز پر اتفاق بھی ہوگیا تاہم چند نکات پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا
مذاکرات اچانک معطل ہوئے تو امریکی اور ایرانی حکام اچانک اپنے ممالک واپس لوٹ گئے تاہم یہ وضاحت نہیں دی گئی کہ آخر مذاکرات معطلی کی اصل وجہ کیا بنی، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے راز پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران سے 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا
جس پر دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ، ایران کی جانب سے 5 سال تک یورینیم افزودگی ترک کرنے کی پیشکش کی گئی جس پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات سے اٹھ کر واپس چلے گئے، ایرانی وفد نے اس امریکی مطالبے کے جواب میں کم مدت کی تجویز پیش کی اور ذرائع کے مطابق ایران نے تقریبا ایک دہائی کے لیے یورینیم افزودگی روکنے کی بھی پیشکش کی۔
ذرائع کا کہنا تھاکہ ایرانی جوہری پروگرام خاص طور پر یورینیم افزودگی روکنے اور موجودہ ذخائر سے دستبردار ہونے کا معاملہ کسی بھی معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔امریکہ نے ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے تمام زیادہ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرے، تاہم ایران نے اس کے بجائے یورینیم افزودگی کی سطح کم کرنے کے لیے نگرانی کے عمل پر رضامندی ظاہر کی۔ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اگر ایران مزید لچک دکھائے اور اسلام آباد میں پیش کی گئی تجویز کو بہترین دستیاب پیشکش کے طور پر قبول کرے تو معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
یورینیم افزودگی پر دوبارہ مذاکرات کب ہوں گے؟
غالب امکان ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں دوبارہ مذاکرات کا انعقاد کیا جائیگا اور پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی بھرپور کوشش کے دوران ایران کو 10 سال تک یورینیم افزودگی ترک کرنے اور امریکہ کو 10 سال کے معاہدے پر راضی کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، ماہرین کے مطابق 10 سال تک یورینیم افزودگی ترک کرنے پر رضامندی کے چانسز زیادہ ہیں اور مکمل جنگ بندی کے امکانات روشن ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی باضابطہ طور پر میزبانی کی پیشکش کر دی ہے ،مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے ، جس کے لئے تیاریاں تیز کردی گئیں۔ امریکی خبر رساں ا دارے کی رپورٹ میں دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا رائو نڈ بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے تاہم مذاکراتی مقام کیلئے دوسرا آپشن عمان یا پھر مشرق وسطی کا کوئی اور ملک بھی ہوسکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ امریکا ایران مذاکرات کا دوسرارائو نڈ رواں ہفتے کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہیکہ فریقین معاہدے کیلئے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے رائو نڈ کی تیاریاں تیز ہوگئی ہے ۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے تک پہنچنے کے لیے براہِ راست بات چیت پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔دوسری جانب وائٹ ہائوس نے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر واضح موقف دینے سے گریز کیا ہے۔اس حوالے سے وائٹ ہائو س کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور مذاکراتی ٹیم نے امریکی موقف اور ریڈ لائنز کو پہلے ہی واضح کر دیا ہے۔
کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے بعد ایران پر دبائو میں اضافہ ہو رہا ہے۔وائٹ ہائوس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے باعث تہران کی جانب سے معاہدے کی خواہش مزید بڑھ سکتی ہے۔
اقامہ اور لیبر کی خلاف ورزی ، سعودی عرب میں 15ہزار تارکین گرفتار
