اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں پر حملے جاری ہیں اور متعدد عمارتوں اور اہم مقامات کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کردیا گیا جبکہ حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے ،اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔
غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنوبی لببان میں رمییش اور بیت ہون کے قصبوں پر دو حملے کئے گئے جبکہ سجاد کے علاقے میں فضائی حملوں کی بھی خبر دی گئی ہے اور براشیت پر گولہ باری کی گئی۔ عیت الجبل کے قصبے پر بھی اسرائیلی فضائی حملے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور کے ضلع میں واقع سرحدی قصبے ناقورہ میں متعدد عمارتوں اور اہم مقامات کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلسل حملے کر رہی ہے۔ دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعوی کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق بنت جبیل اور البیاضہ سمیت کئی مقامات پر اسرائیلی فوجیوں اور فوجی گاڑیوں کے اجتماعات پر راکٹ حملے کئے گئے
جن کا مقصد دشمن کی پیش قدمی کو روکنا تھا۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچا ہے، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان دعوں کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بنت جبیل کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون حملہ بھی کیا گیا، جس میں مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔تنظیم نے واضح کیا کہ یہ حملے لبنان کی خودمختاری اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے کیے جا رہے ہیں،
حزب اللہ کے مطابق اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری کارروائیوں کے ردعمل میں یہ جوابی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جب تک مبینہ جارحیت ختم نہیں ہوتی، اس قسم کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ادھرا سرائیلی فوج (آئی ڈی ایف)کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔ٹیلیگرام پر جاری بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا: سارجنٹ میجر ایال یوریئل بیانکو ہلاک ہوئے،
ایک ریزرو فوجی اہلکار کو درمیانی نوعیت کے زخم آئے، جبکہ دو دیگر ریزرو اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔اسرائیلی فوج کے مطابق زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔د ریں اثنا برطانوی وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر نے لبنان کو فوری طور پر جنگ بندی میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔ اپنے ایک بیان میں سرکیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے بہت کام درکار ہے۔
اسلام آباد مذاکرات کے لبنان جنگ پر اثرات
انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری ہی درست راستہ ہے جس سے پائیدار جنگ بندی حاصل ہوسکے۔اس کے علاوہ برطانوی وزیراعظم نے لبنان کو فوری طور پر جنگ بندی میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ لبنان میں بمباری شدید انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے جسے فورا بند ہونا چاہیے۔ ادھر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتریس نے کہاہے کہ ہفتوں کی تباہی اور اضطراب کے بعد یہ واضح ہوچکا ہے کہ مشرقِ وسطی کے موجودہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں فوری بند ہونی چاہئیں، بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز سمیت بحری آمد و رفت کی آزادی کا احترام کیا جائے۔ ادھر جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں جاری لڑائی کو ختم کریں اور لبنانی حکومت کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات شروع کریں۔
جرمن چانسلر کے ترجمان کے مطابق مرز نے نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران فلسطینی علاقوں میں جاری صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مغربی کنارے کے کسی حصے کے عملی انضمام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے جرمن چانسلر نے کہا کہ جرمنی آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی آزادی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیشکش صرف اس صورت میں قابلِ عمل ہوگی جب خطے میں لڑائی ختم ہو جائے اور ضروری حالات فراہم کئے جائیں۔
یورینیم افزودگی مذاکرات معطلی کی بڑی وجہ ؟ تفصیلات سامنے آگئیں
