Skip to main contentSkip to footer

ہری پور اور ایبٹ آباد کو خیبرپختونخوا سے الگ کرنے کا منصوبہ

ہری پور اور ایبٹ آباد کو خیبرپختونخوا سے الگ کرنے کا منصوبہ

 وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے دو اہم اضلاع ہری پور اور ایبٹ آباد کو صوبے سے الگ کرکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی سطح پر ہری پور اور ایبٹ آباد کو اسلام آباد کے انتظامی دائرے میں شامل کرنے کے حوالے سے غور کیا جارہا ہے، جس کے بعد معاملہ خیبرپختونخوا اسمبلی تک پہنچ گیا ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت ہری پور اور ایبٹ آباد کو خیبرپختونخوا کی موجودہ انتظامی حدود سے نکال کر وفاقی دارالحکومت کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔ تاہم اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخالفت

مجوزہ اقدام کے خلاف خیبرپختونخوا اسمبلی میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ 7 اگست کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ہری پور اور ایبٹ آباد کو وفاقی دارالحکومت میں شامل کرنے کی مبینہ تجویز کے خلاف قرارداد پیش کی گئی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ صوبائی وزیر اکبر ایوب کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہری پور اور ایبٹ آباد خیبرپختونخوا کا اٹوٹ انگ ہیں اور ان اضلاع کے وسائل اور زمین پر بنیادی حق صوبے کے عوام کا ہے۔ قرارداد میں وفاقی سطح پر ہری پور اور ایبٹ آباد کو اسلام آباد میں شامل کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کی گئی۔ اس حوالے سے چیف وہب اکبر ایوب کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہری پور، ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کا ہر ضلع صوبے کا اٹوٹ حصہ ہے جسے کسی بھی صورت صوبے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ صوبائی حدود میں انتظامی، سیاسی، معاشی یا قدرتی وسائل پر کنٹرول کے مقصد سے کسی بھی قسم کی تبدیلی صوبے کے عوام کے حقوق، وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری اور آئینی اصولوں کے منافی ہوگی۔

خیبر پاس اکنامک کوریڈور پر 32کروڑ 69لاکھ روپے خرچ، منصوبہ 2029 میں مکمل ہوگا

ایوان نے قرار دیا کہ خیبرپختونخوا کے آبی وسائل، پن بجلی کے منصوبے، معدنیات، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل صوبے اور اس کے عوام کا آئینی حق ہیں اور ان وسائل پر براہ راست یا بالواسطہ قبضے یا اختیار حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی مضبوطی وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور تمام وفاقی اکائیوں کے مساوی احترام میں مضمر ہے۔ کسی بھی صوبے کی جغرافیائی حدود میں سیاسی مقاصد یا ذاتی خواہشات کے تحت زبردستی تبدیلی نہ صرف آئینی اصولوں کے خلاف ہوگی بلکہ قومی یکجہتی، بین الصوبائی اعتماد اور وفاقی نظام کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہری پور، ایبٹ آباد یا صوبے کے کسی بھی دوسرے ضلع کو اسلام آباد میں شامل کرنے سے متعلق تمام تجاویز فوری طور پر ترک کی جائیں اور خیبرپختونخوا کی آئینی و جغرافیائی حیثیت کا مکمل احترام کیا جائے۔

باچا خان چوک سے مردہ مرغیاں برآمد، ہوٹلوں کو سپلائی کا انکشاف

قرارداد میں کہا گیا کہ صوبے کے عوام کا منتخب ایوان، صوبائی حکومت اور عوام اپنی جغرافیائی سالمیت، آئینی حقوق، صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، جمہوری اور پُرامن ذریعہ اختیار کریں گے اور اس مقصد کیلئے کسی بھی آئینی و جمہوری قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ایوان نے تمام سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، آئینی اداروں، وکلاء، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ صوبے کی جغرافیائی وحدت، آئینی خودمختاری اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے مشترکہ اور متفقہ موقف اختیار کیا جائے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت کو خبردار کیا گیا کہ صوبے کی حدود میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام خیبرپختونخوا کے عوام کیلئے ناقابل قبول ہوگا اور اس سے بین الصوبائی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور وفاقی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس نوعیت کی کسی بھی تجویز یا اقدام کو فوری طور پر مسترد کرنے کا واضح اعلان کیا جائے اور آئین پاکستان کے مطابق صوبے کی علاقائی سالمیت، آئینی حیثیت اور عوامی حقوق کے مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرائی جائے بعدازاں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا دریں اثنا ایوان نے خیبرپختونخوااسمبلی اختیارات،استثنیٰ و استحقاق سے متعلق ترمیمی بل2026ء بھی پاس کرلیااس بل کی منظوری کیلئے اکرام اللہ غازی نے تحریک پیش کی

خیبر پختونخوا میں تیز بارش اور فلش فلڈ کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق

اس صورتحال میں یہ واضح نہیں کہ مجوزہ تبدیلی انتظامی حدود تک محدود ہوگی یا مستقبل میں اس کے لیے آئینی اور قانونی ترامیم بھی درکار ہوں گی۔ ہری پور اور ایبٹ آباد خیبرپختونخوا کے اہم اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں اضلاع جغرافیائی، معاشی، تعلیمی اور سیاحتی اعتبار سے صوبے میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ایبٹ آباد بالخصوص پاکستان کے اہم سیاحتی مراکز میں شامل ہے جبکہ ہری پور صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم ضلع ہے۔ دونوں اضلاع اسلام آباد کے قریب واقع ہونے کے باعث وفاقی دارالحکومت کے ساتھ مضبوط سفری اور معاشی روابط بھی رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے اور اس سے ملحقہ علاقوں کے حوالے سے مختلف تجاویز اور بحث سامنے آتی رہی ہے۔ تاہم موجودہ معاملے نے اس لیے خاص اہمیت اختیار کرلی ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے مبینہ تجویز کے خلاف باضابطہ قرارداد منظور کرلی ہے ماہرین کے مطابق اگر ہری پور اور ایبٹ آباد کو خیبرپختونخوا سے الگ کرکے وفاقی دارالحکومت میں شامل کرنے کی کوئی باضابطہ تجویز سامنے آتی ہے تو معاملہ محض انتظامی فیصلہ نہیں رہے گا بلکہ اس کے آئینی، قانونی، سیاسی اور انتظامی پہلو بھی زیر بحث آئیں گے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی متفقہ قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی سطح پر اس تجویز کی مخالفت موجود ہے، جبکہ حتمی صورتحال وفاقی حکومت کے باضابطہ فیصلے اور آئینی و قانونی طریقہ کار سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

 

مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین میں بندر بانٹ

Next Post
جاپان نے غیر ملکی ورکرز کے قیام کی مدت میں 5 سال توسیع کردی
Previous Post
خیبر پاس اکنامک کوریڈور پر 32کروڑ 69لاکھ روپے خرچ، منصوبہ 2029 میں مکمل ہوگا