Skip to main contentSkip to footer

حکومت کو فضل الرحمن سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے،فواد چوہدری

پی ٹی آئی سوشل میڈیا کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے کیلئے کام کرتا ہے، فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہاہے کہ حکومت کو مولانا فضل الرحمن سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے،پاکستان نے چند سال میں عالمی سطح پر یونیک پوزیشن حاصل کر لی ہے، آج جو مقام ہمارے لیڈرز کو دنیا بھر میں مل رہا ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر چین جائیں، امریکا جائیں ہر جگہ استقبال ہوتا ہے، سعودی عرب اور ایران دونوں ہماری بات سنتے ہیں۔

ہم نے آپ سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے، مولانا فضل الرحمان

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ امریکا ہماری بات کو اہمیت دیتا ہے، ہمیں یہ پوزیشن برقرار رکھنی چاہیے، ہمیں ملک کے اندرونی حالات ٹھیک کرنے چاہئیں، سیاسی ماحول کو بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے 4 سال میں ملک میں تلخی بہت بڑھ گئی ہے، پیٹرول 400 روپے ہو گیا، مہنگائی سے عوام کی تکلیف میں اضافہ ہوا، حالات ایسے ہی رہے تو حکمران طبقے کو جو سہولتیں حاصل ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی، ملک اب تک اپنے خاص طبقے کو پالتا رہا ہے، اگر ہم نے اپنی چیزوں پر نظرثانی نہ کی تو ان کو پالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین کی قیادت اور سلمان اکرم راجہ سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں

گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کیلئے ہے، فضل الرحمان

پی ٹی آئی کی جو قیادت کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے ان سے مذاکرات کیے جائیں۔ان کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر زیرِ حراست رہنمائہں سے بات کی جائے، حماد اظہر سمیت دیگر رہنماں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کریں، زیرِ حراست پی ٹی آئی قیادت کو ریلیف دیا جائے تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن صرف سیاسی نہیں مذہبی رہنما بھی ہیں، حکومت کو ان سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے، مولانا فضل الرحمن اپنے تلخ بیانات واپس لیں اور حکومت بھی مثبت سمت میں قدم بڑھائے۔انہوں نے کہا کہ جب سے محسن نقوی نے نئے صوبوں کی بات کی، ن لیگ نے ان کے خلاف مہم شروع کر دی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے خلاف ہیں، تحریکِ انصاف نئے صوبوں کی حامی ہے، حکومت ان سے بات کرے۔

 

حکومت ٹکر لینا چاہتی ہے تو ہم بھی تیار ہیں، مولانا فضل الرحمن

اگلی پوسٹ
ہوانا میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مجسمے کی نقاب کشائی
پچھلی پوسٹ
اپنے وطن میں مرنا پسند کروں گی ،حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا اعلان