جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں اور جلسوں سے روکا گیا تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور اسے عوام کے سامنے بھی لے کر جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکومت ان کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے تیار ہے تو وہ بھی مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے حکومتی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل وقت یاد رکھیں جب ان کے لیے فضل الرحمٰن فرنٹ لائن پر لڑ رہا تھا۔ نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف کو بھی ماضی کی سیاسی جدوجہد یاد رکھنی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہ بڑھایا جائے کہ کل دوست ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ہر قیمت پر ذلیل اور رسوا کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ مزاحمت کریں گے، تاہم وہ تاریخ کے ہاتھوں رسوا ہونے کے بجائے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دیں گے۔
لداخ میں بھارت نے تربیتی مشقوں کی آڑ میں فوجی تیاری تیز کر دی
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ پاکستان کسی فرد، فوجی یا جرنیل کی جاگیر نہیں بلکہ پوری قوم اور عوام کا ملک ہے۔ ان کے بقول ملک کے لیے سیاسی جدوجہد کی گئی ہے اور وہ آج بھی اس جدوجہد کا حصہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ملک میں آئین، جمہوریت اور قانون کی بالادستی سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت، اپوزیشن اور پارلیمنٹ سے باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے مذاکرات کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے مستقبل کا ازسرِنو تعین کریں اور اس بات پر اتفاق کریں کہ آئین پر عمل درآمد، قانون کی حکمرانی، عوام کی بالادستی اور سویلین سپرمیسی کیسے یقینی بنائی جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو آمریت، غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات، تشدد اور خون خرابے سے بچانے کے لیے مذاکرات پر تیار ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی گفتگو کے ذریعے ملک کے مستقبل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیں۔
برطانوی بجٹ میں گیس کے اضافی چارجز ختم، تنخواہوں میں بھی اضافہ
دنیا میں نئی جنگ کی تیاری، شمالی کوریا کا فوج کو تیار رہنے کا حکم

