Skip to main contentSkip to footer

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ڈکیتی، بائنینس سے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر چوری

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ڈکیتی، بائنینس سے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر چوری

دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنینس (Binance) کو سائبر حملے میں بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں ہیکرز نے مبینہ طور پر 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں تک غیرقانونی رسائی حاصل کرکے انہیں مختلف کرپٹو والٹس میں منتقل کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے عالمی مالیاتی اور ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بائنینس نے 30 اکتوبر کو اپنے سیکیورٹی نظام میں بڑے پیمانے پر خرابی اور غیرمجاز ٹرانزیکشنز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں ایک ڈیو اوپس انجینئر کے لیپ ٹاپ کے ہیک ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بظاہر حملہ آوروں نے اس لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد بائنینس کے ایک سروس کنٹینر میں داخل ہوکر غیرمجاز رقم منتقلی کی ٹرانزیکشنز انجام دیں۔

ہمیں پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا، ایمان مزاری

کمپنی کے مطابق اس واقعے میں تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اب تک ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ کرپٹو والٹس کی نجی سیکیورٹی کیز (Private Keys) چوری ہوئی ہیں۔ بائنینس نے بتایا کہ بلاک چین سے متعلق مختلف کمپنیوں اور شراکت دار اداروں کے تعاون سے تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے متاثرہ اثاثے منجمد کرانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے، جبکہ باقی تقریباً 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کے اثاثوں کی مکمل بازیابی اور موجودہ صورتحال سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ اس بڑی واردات کے بعد بائنینس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر صارفین کے لیے رقم جمع کرانے اور نکالنے کی سہولت عارضی طور پر معطل کردی، جبکہ متاثرہ ڈیجیٹل ایڈریسز کی اجازتیں بھی منسوخ کردی گئیں۔ کمپنی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بلاک چین انٹیلی جنس ماہرین کے ساتھ مل کر چوری شدہ اثاثوں کا سراغ لگانے اور انہیں واپس حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

بلوچستان میں فورسز کا آپریشن، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشتگرد ہلاک

رپورٹس کے مطابق کرپٹو کرنسی کی دیگر بڑی کمپنیوں نے بھی اس معاملے میں تعاون کیا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسیوں کے اجرا اور منتقلی سے وابستہ کمپنیوں ٹیتھر (Tether) اور سرکل (Circle) نے بھی مشتبہ طور پر منتقل ہونے والے اثاثوں کو منجمد کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جس سے ہیکرز کے لیے چوری شدہ رقم کو مزید منتقل کرنا اور نقد رقم میں تبدیل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ بائنینس انتظامیہ نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی رقوم محفوظ ہیں اور اس سائبر حملے کے نتیجے میں ہونے والے تمام مالی نقصانات کمپنی اپنے سیکیورٹی فنڈ (SAFU Fund) اور اپنے دیگر مالی وسائل سے پورے کرے گی۔ کمپنی کے مطابق صارفین کو اس واقعے کے باعث ہونے والے نقصان کا بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔ تحقیقات اور سیکیورٹی اقدامات مکمل ہونے کے بعد کمپنی اپنے ذخائر کی تازہ تفصیلات بھی جاری کرے گی۔ دوسری جانب اس خبر کے سامنے آنے کے بعد عالمی کرپٹو مارکیٹ میں بھی منفی اثرات دیکھنے میں آئے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں تین فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کی قیمت تقریباً 76 ہزار 368 ڈالر تک گر گئی، جبکہ ایتھیریم کی قیمت میں بھی تین فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔ بائنینس کے اپنے ڈیجیٹل ٹوکن بی این بی کی قیمت بھی دباؤ کا شکار رہی۔ کرپٹو کرنسی سے وابستہ بعض کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

لداخ میں بھارت نے تربیتی مشقوں کی آڑ میں فوجی تیاری تیز کر دی

بلاک چین تجزیاتی اداروں اور سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس حملے میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ بعض ماہرین نے اس کارروائی کو شمالی کوریا کے مبینہ سائبر گروپ ٹریڈر ٹریٹر (TraderTraitor) سے بھی جوڑا ہے، تاہم بائنینس نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق اگر اس واردات میں چوری ہونے والی پوری رقم کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ ہوگا، جو فروری 2025 میں بائی بٹ (Bybit) کے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے سائبر حملے سے بھی کہیں بڑا ہوگا۔ بائنینس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حملے کی تکنیکی تفصیلات اور سیکیورٹی نظام میں سامنے آنے والی خامیوں سے متعلق جامع رپورٹ جاری کی جائے گی۔ فی الحال کمپنی کی اولین ترجیح صارفین کے اثاثوں کا تحفظ، متاثرہ رقم کی بازیابی اور مستقبل میں ایسے سائبر حملوں کی روک تھام ہے۔

 

یوگنڈا میں 38افراد کو قتل کرکے لاشیں کھانے والا انسان گرفتار

اگلی پوسٹ
پیٹرول کی یومیہ پیداوار7 ہزار 35، فروخت 21 ہزار 583 میٹرک ٹن ریکارڈ
پچھلی پوسٹ
رواں مالی سال انکم ٹیکس گوشواروں سے ایف بی آر کو کم ٹیکس موصول