Skip to main contentSkip to footer

پاکستان کا پراسرار جزیرہ استولا، کیا یہاں دجال قید ہے؟

پاکستان کا پراسرار جزیرہ استولا، کیا یہاں دجال قید ہے؟

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحل کے قریب بحیرۂ عرب میں واقع جزیرہ استولا ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک غیر معمولی دعوے کے باعث زیرِ بحث ہے کہ اس جزیرے میں دجال قید ہے۔ وائرل ویڈیوز اور مختلف پوسٹس میں اس دعوے کو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں پیش آنے والے ایک واقعے سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں چند افراد سمندری طوفان کے باعث راستہ بھٹک کر ایک جزیرے پر پہنچے، جہاں انہوں نے غیر معمولی بالوں والی ایک مخلوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، جس نے خود کو دجال بتایا تھا۔ تاہم، اس واقعے کی اصل روایت اور جزیرہ استولا کے درمیان تعلق کی کوئی مستند تصدیق موجود نہیں۔

دنیا کے قدیم ترین 3400سال پرانے امن معاہدے کا نیا ٹکڑا دریافت

حضرت تمیم داریؓ سے منقول اس واقعے کا ذکر صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، حدیث نمبر 2942 میں موجود ہے۔ روایت کے مطابق حضرت فاطمہ بنت قیسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حضرت تمیم داریؓ کا واقعہ سنایا۔ حضرت تمیم داریؓ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سمندری سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سمندر کی لہروں نے ان کی کشتی کو تقریباً ایک ماہ تک بھٹکائے رکھا جس کے بعد وہ ایک جزیرے پر پہنچ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک ایسی مخلوق سے ہوئی جس کے جسم پر بہت زیادہ بال تھے۔ حدیث میں اس مخلوق کو ’’جسّاسہ‘‘ کہا گیا ہے۔ اس مخلوق نے انہیں ایک ایسے شخص کے پاس جانے کا راستہ بتایا جو ایک عمارت میں موجود تھا۔ روایت کے مطابق جب وہ اس عمارت میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک غیر معمولی جسامت کے شخص کو دیکھا، جو مضبوط زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس شخص نے ان سے مختلف سوالات کیے، جن میں شام و فلسطین کے خطے کے بعض مقامات، پانی کے ذخائر اور کھجوروں کی پیداوار سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔ بعد ازاں اس نے اپنی شناخت مسیح دجال کے طور پر کرائی اور کہا کہ اسے جلد خروج کی اجازت ملنے والی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت تمیم داریؓ کے بیان کو لوگوں کے سامنے نقل فرمایا اور مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے طیبہ قرار دیا، جہاں دجال کے داخل نہ ہونے سے متعلق بھی روایت میں ذکر موجود ہے۔

مصر میں 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت

اس واقعے کے مستند ہونے اور جزیرے کی جدید جغرافیائی شناخت کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث میں جزیرے کا نام استولا نہیں بتایا گیا اور نہ ہی بلوچستان، پاکستان یا بحیرۂ عرب کا کوئی واضح حوالہ موجود ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ حضرت تمیم داریؓ اور ان کے ساتھی اسی جزیرے پر پہنچے تھے، دستیاب تاریخی شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو استولا سے منسوب کرنا ایک قیاس ہے، جس کی تائید میں کوئی مستند تاریخی دستاویز، قابلِ تصدیق جغرافیائی نشان دہی یا تحقیقی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جزیرہ استولا، جسے مقامی طور پر ہفت تلار بھی کہا جاتا ہے، بلوچستان کے ساحل کے قریب واقع پاکستان کا ایک غیر آباد اور چٹانی جزیرہ ہے۔ یہ اپنی قدرتی ساخت، سمندری حیات اور ماحولیاتی اہمیت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ جزیرے کے اردگرد مختلف سمندری انواع پائی جاتی ہیں، جبکہ اس کے ساحلی علاقے سمندری کچھوؤں سمیت بعض جنگلی حیات کے لیے اہم ہیں۔ جزیرے کی تنہائی، چٹانی پہاڑیاں اور سمندر میں اس کا منفرد محلِ وقوع اسے سیاحوں اور قدرتی ماحول میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک پرکشش مقام بناتے ہیں، تاہم ان خصوصیات کا دجال کی موجودگی یا قید سے کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں۔ تاہم جزیرہ استولا کے چند حصے ناقابل رسائی ہونے اور دور سے وہاں زنجیروں جیسی چیزیں دکھائی دینے پر استولا کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں پھیل رہی ہیں۔

سعودی عرب میں ہزاروں برس قدیم نخلستان کے شواہد دریافت

سوشل میڈیا پر استولا کے حوالے سے پھیلنے والے دعوے میں بنیادی طور پر دو مختلف باتوں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ پہلی بات حضرت تمیم داریؓ کی وہ روایت ہے جس میں ایک جزیرے پر زنجیروں میں جکڑے شخص سے ملاقات کا ذکر ہے، جبکہ دوسری بات یہ دعویٰ ہے کہ وہ جزیرہ پاکستان کا استولا ہے۔ پہلی بات کا حوالہ صحیح مسلم میں موجود ہے، لیکن دوسری بات کی تصدیق کے لیے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت دستیاب نہیں۔ کسی ویڈیو، تصویر یا آن لائن پوسٹ میں اس دعوے کو بار بار دہرایا جانا اسے تاریخی حقیقت ثابت نہیں کرتا۔ دجال کے بارے میں اسلامی روایات میں اس کے خروج اور اس سے متعلق مختلف علامات کا ذکر ملتا ہے، لیکن کسی موجودہ جغرافیائی مقام کو اس کی قید گاہ قرار دینے کے لیے مستند دلیل ضروری ہے۔ اس لیے مذہبی روایت، اہلِ علم کی تشریحات اور سوشل میڈیا پر کیے جانے والے جدید اندازوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔ جزیرہ استولا کے بارے میں یہ دعویٰ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ محض کسی مقام کا پراسرار یا دور افتادہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہاں دجال قید ہے۔ مجموعی طور پر حضرت تمیم داریؓ اور دجال سے متعلق واقعہ صحیح مسلم میں بیان ہوا ہے، تاہم اس واقعے کے جزیرہ استولا میں پیش آنے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کے جزیرے استولا میں دجال قید ہے۔ یہ ایک وائرل دعویٰ ہے جسے ثابت شدہ حقیقت کے بجائے غیر مصدقہ نسبت کے طور پر پیش کرنا چاہیے

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر میں 3ہزار سال پرانا مقبرہ دریافت کرلیا

 

شیاطین کو بلانے کیلئے جادوئی منتر لکھی پراسرار تختی دریافت

پچھلی پوسٹ
صوابی، دو قتل کیسز میں ملزمان کو عمر قید اور دیگر سزائیں سنا دی گئیں