نیدرلینڈز میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے رومی دور کی ایک نایاب سیسے کی تختی دریافت کی، جس پر ایسے جادوئی منتر درج ہیں جو دیوتاں اور شیاطین کو پکار کر دشمنوں کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کیے جاتے تھے۔غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی نوادرات رومی سلطنت کے قدیم صوبے لوئر جرمینیا کے ایک آثارِ قدیمہ کے مقام سے برآمد ہوئی
جو موجودہ دور میں ڈچ میونسپلٹی ہِیرلین میں واقع ہے۔تقریبا 9.3 سینٹی میٹر لمبی اور 4.8 سینٹی میٹر چوڑی اس تختی پر تحریر کندہ تھی، حیران کن طور پر یہ متن لاطینی زبان کے بجائے قدیم یونانی زبان میں تحریر کیا گیا تھا، جبکہ اس کا اندازِ تحریر مصری رسم الخط سے مشابہت رکھتا ہے۔انسٹیٹیوٹ آف پیپیرولوجی کے محققین کی جانب سے کیے گئے مطالعے میں معلوم ہوا کہ تختی پر تین مختلف اقسام کے حروف اور علامات استعمال کی گئی ہیں، جو اسے مزید پراسرار بنا دیتی ہیں۔ماہرین کے مطابق ایسی تختیاں عموما سیسے سے تیار کی جاتی تھیں
قدیم عقائد کے تحت سیسے کو ایک ایسا مادہ سمجھا جاتا تھا جس میں افراد یا اشیا کو روحانی طور پر باندھنے اور ان پر اثر انداز ہونے کی خاص طاقت موجود ہوتی تھی۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والی یہ تختی رومی دور کے جادوئی عقائد، مذہبی رسومات اور خفیہ عملیات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔روس میں کالج کے ایک طالب علم کو پیزا کی دکان پر ہیرو بننے کا شوق اس وقت مہنگا پڑ گیا، جب اس نے پیزا آرڈر کرتے وقت دکاندار کو اپنا نام ایڈولف ہٹلر لکھوا دیا۔ پیزا تو خیر اس کے ہاتھ نہ آیا، لیکن پولیس نے اس انوکھے ہٹلر کو نازیوں کی نشانیاں اور نام پھیلانے کے جرم میں دھر لیا
اور عدالت نے اسے پانچ دن کے لیے جیل کی ہوا کھانے بھیج دیا۔ اب اس منچلے کو نہ صرف جیل کی روٹی کھانی پڑ رہی ہے بلکہ کالج سے نکالے جانے کا جھٹکا بھی الگ لگنے والا ہے۔یہ واقعہ روس کے شہر نزنی ٹیگل میں پیش آیا، جہاں تیموفے واخونن نامی 18 سالہ طالب علم نے ایک مقامی شاپنگ سینٹر میں موجود ریسٹورنٹ سے پیزا آرڈر کرتے وقت اپنا نام ایڈولف ہٹلر بتایا۔
وہاں موجود ایک سیاسی رہنما الیکسی سوایلوف نے اس بات کو نوٹ کیا اور فورا پولیس کو شکایت کر دی۔ الیکسی سوایلوف نے واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ میرے ایک دوست کے سامنے ہوا جو فوج کا پرانا سپاہی ہے اور جنگ لڑ چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا ماننا ہے کہ یہ قانون توڑنے کا بالکل صاف اور واضح معاملہ ہے۔

علاقائی وزارت داخلہ کے مطابق پولیس نے نوجوان کو اس کے کالج سے گرفتار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور اپنے کیے پر فوری طور پر افسوس کا اظہار کیا۔وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس نے ان تمام لوگوں سے معذرت کی جن کے جذبات اس کے رویے سے مجروح ہوئے۔تحقیقات کے دوران حکام کو مزید معلومات بھی ملیں۔ تفتیشی اداروں کے مطابق نوجوان نے اپنی میز پر بعض ممنوعہ علامات بنا رکھی تھیں۔ بعد میں اس نے ان علامات کی تصاویر کھینچ کر ایک آن لائن چیٹ فورم میں بھی شیئر کیں۔
ایپل کا بڑا اعلان، پاکستان میں آئی فونز مہنگے ہونے کا خدشہ
روسی اخبار نووایا گازیتا یورپ کے مطابق انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والے خصوصی افسران بھی اس تحقیقات میں شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آن لائن سرگرمیوں کی جانچ کے دوران نوجوان کے خلاف مزید شواہد سامنے آئے۔دوسری جانب تیموفے واخونن نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ اسے اپنے عمل کے نتائج اور اس کی اہمیت کا مکمل اندازہ نہیں تھا۔اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیے کے اصل معنی اور اثرات کو نہیں سمجھ سکا تھا۔
لیکن پولیس نے اس کا یہ سستا بہانہ نہیں مانا اور پیزا کی جگہ پانچ دن کے لیے حوالات کی سیر پر روانہ کر دیا۔
عمرہ بکنگ کے 4 آفیشل طریقوں کا اعلان کردیاگیا

