پاکستان نے ایک بار پھر سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے اس کے ساتھ کھڑا ہے،خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں، تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے۔ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان نے 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے علاقوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کی تھی، جن میں مقدس مقامات کے قریبی علاقے بھی شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس اور شہریوں کی سلامتی کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔سجاد حیدر نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور بیرونی جارحیت یا خطرات کے خلاف حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے مکہ الائنس فار ڈیفنس سے اپنے عزم کا اظہار کیا۔
ممدانی کے بعد امریکا کے ایک اور بڑے شہر میں ایشیائی نژاد میئر منتخب
انہوں نے بتایا کہ 28 اکتوبر کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے پہلے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے وزارت خارجہ میں ملاقات کی۔ترجمان کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مکہ الائنس کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ ترجمان دفتر خار نے کہا کہ آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، اجلاس میں فلسطین، یمن، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست 4 جون 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو اور مشرقی مقبوضہ بیت المقدس اس کا دارالحکومت ہو، غزہ میں فوری طور پر تشدد کے خاتمے اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا گیا، تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے۔
دہشتگردی خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، میاں افتخار
ان کا کہنا تھا کہ یمن اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت، جبکہ سعودی عرب اور یمن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، علاقائی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری ضروری ہے۔ترجمان نے کہا کہ جاری سفارتی کوششوں بشمول اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں، 23 اکتوبر کو آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے ہم منصبوں سے بھی استنبول میں ملاقات ہوئی، ملاقات میں اہم علاقائی اور عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اردن کی حکومت اور عوام سے تعزیت کرتے ہیں، جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی بھی کیا، پاکستان کی زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن سے یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔
فرنٹیئر کالج برائے خواتین پشاور میں ثقافتی شو کا معاملہ محکمہ اعلیٰ تعلیم پہنچ گیا

