Skip to main contentSkip to footer

صلاح الدین ایوبی کی قبر کو جب 600 سال بعد کھولا گیا

صلاح الدین ایوبی کی قبر کو جب 600 سال بعد کھولا گیا

تحریر : کامران کامی

صلاح الدین ایوبی کی قبر کو جب 600 سال بعد کھولا گیا تو کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا، قبر کے اندر کا منظر دیکھ کر مغرور فرانسیسی سائنسدان کے ہاتھ سے اوزار گر گئے۔ یہ 1950 کی بات ہے، دمشق شام میں واقع اموی مسجد کے صحن میں عظیم فاتح صلاح الدین ایوبی کی ایک انتہائی سادہ سی قبر تھی۔ فرانس، برطانیہ اور مصر کے ماہرین آثار قدیمہ نے تکبر سے دعویٰ کیا کہ بیت المقدس فتح کرنے والے اتنے بڑے سلطان کی تدفین اتنی سادگی سے نہیں ہو سکتی

ٹرمپ کی پارٹی کو بڑا دھچکا، ڈیموکریٹس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی

یہ صرف ایک علامتی قبر ہے، اصل لاش کہیں اور ہے۔ اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے 25 نومبر 1950 کو انہوں نے کیمروں اور سائنسی آلات کے ساتھ قبر کھولنے کا فیصلہ کیا۔ جونہی قبر کی مٹی ہٹائی گئی اور صدیوں پرانا بوسیدہ لکڑی کا صندوق سامنے آیا تو اچانک پورے مقبرے میں کستوری اور تازہ گلاب کی اتنی خوشبو پھیلی کہ ماہرین کے ہوش اڑ گئے۔ فرانسیسی ماہر ڈیوڈلی کومٹے نے کانپتے ہاتھوں سے جیسے ہی کفن کا ایک کونا ہٹایا تو اس کے ہاتھ سے کھدائی کے اوزار چھوٹ کر گر گئے۔ 600 سال گزرنے کے باوجود کفن کے اندر موجود لاش بالکل تازہ تھی، چہرے کے رعب دار نقوش سلامت تھے، داڑھی کے بال موجود تھے اور انگلیوں کے پوروں پر لگی مہندی یوں چمک رہی تھی جیسے ابھی کل رات ہی لگائی گئی ہو۔

سو سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے پنجابی فوجیوں کو جنگی شہدا ء کا درجہ مل گیا

ڈیوڈلی کومٹے خوف اور حیرت سے چیخا، یہ ناممکن ہے، لاش پر گلنے سڑنے کا کوئی نشان نہیں، مجھے تحقیق کرنی ہے، کاربن ڈیٹنگ کے لیے اس کے نمونے لینے ہیں۔ اتنے میں دمشق کے ایک 80 سالہ نورانی چہرے والے عالم دین آگے بڑھے، انہوں نے جلال میں آ کر کفن کو مکمل ہٹانے سے روکا اور وہ تاریخی جملہ کہا جس نے کمرے میں موت کا سناٹا بچھا دیا، بس کرو! تمہاری لیبارٹریاں اس شخص کے بارے میں کیا ثابت کریں گی جس نے آدھی دنیا فتح کی لیکن جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے شاہی خزانے میں اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ اس کے لیے کفن کا کپڑا خریدا جا سکے۔ اس دن جدید سائنس کو گھٹنے ٹیک کر ماننا پڑا کہ جو لوگ اللہ کے دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں، مٹی ان کے جسموں کو چھونے کی جرات بھی نہیں کر سکتی۔

 

منگولوں کو شکست دینے والا مسلمانوں کا عظیم سپہ سالار رکن الدین بیبرس

اگلی پوسٹ
عوامی احتجاج نہ ہونا پی ٹی آئی کے دعوؤں پر بڑا سوالیہ نشان ہے، لیاقت بلوچ
پچھلی پوسٹ
ٹرمپ کی پارٹی کو بڑا دھچکا، ڈیموکریٹس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی