برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مہم جو کارل بشبی 28 سال تک دنیا بھر کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد بالآخر اپنی والدہ کے پاس گھر واپس پہنچ گئے۔57 سالہ کارل بشبی کا ان کے آبائی شہر ہل میں سیکڑوں افراد نے پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے 4 براعظموں اور 30 ممالک پر مشتمل تقریبا 31 ہزار میل کا سفر طے کر کے اپنی غیر معمولی مہم مکمل کی۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق گھر کے باہر اپنے بیٹے کو دیکھ کر ان کی والدہ انجیلا جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہو کر انہیں گلے لگا لیا، گھر کے باہر خوش آمدید کا بینر بھی آویزاں تھا۔کارل بشبی نے یکم نومبر 1998 کو 29 سال کی عمر میں چلی سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔سابق برطانوی پیرا ٹروپر نے اس مہم کیلئے ایک خیمہ، چند سو ڈالرز اور کیمرہ ساتھ رکھا تھا، ان کا ابتدائی خیال تھا کہ یہ سفر 5 سال میں مکمل ہو جائے گا
خیبر پختونخوا میں سیاحتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری
تاہم اس میں تقریبا نصف زندگی لگ گئی۔اس دوران انہوں نے خطرناک جنگلات عبور کیے، الاسکا اور روس کے درمیان منجمد آبنائے بیرنگ پیدل پار کی اور بحیرہ کیسپین میں مسلسل 31 روز تیراکی کر کے فاصلہ طے کیا۔کارل بشبی کو پاناما اور روس میں حراست کا سامنا بھی کرنا پڑا، جبکہ میکسیکو میں انہیں بندوق کی نوک پر روکا گیا، ویزا پابندیوں، مالی مشکلات اور کورونا کی وبا کے باعث بھی ان کا سفر بار بار تعطل کا شکار ہوا۔28 سالہ مہم میں سے صرف 15 سال انہوں نے حقیقتا پیدل سفر کرتے ہوئے گزارے، جبکہ باقی وقت دستاویزی کارروائیوں، سفری انتظامات اور مالی وسائل کے حصول میں صرف ہوا۔گزشتہ ماہ انہوں نے اپنے سفر کا آخری مرحلہ مکمل کرنے کے لیے انگلش چینل بھی تیراکی کے ذریعے عبور کیا اور کسی کشتی یا ہوائی جہاز کا استعمال کیے بغیر اپنی منزل تک پہنچے۔ان کی واپسی پر 36 سالہ بیٹا اور 12 سالہ پوتی بھی استقبال کے لیے موجود تھے، جن سے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ملے تھے۔اپنی طویل مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کارل بشبی نے دنیا بھر میں ملنے والے اجنبی افراد کی مدد کو اپنی کامیابی کا اہم سبب قرار دیا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ سفر میں نے اکیلے مکمل نہیں کیا بلکہ دنیا بھر کے لوگوں نے اس میں میرا ساتھ دیا۔

