بعض لوگ خواب دیکھتے ہیں، کچھ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ سابق پیرا ٹروپر کارل بشبی نے ایسا خواب دیکھا جسے دنیا بھر کے ماہرین نے ابتدا میں ناممکن قرار دیا تھا۔ تقریباً ستائیس برس قبل اس نے جنوبی امریکہ کے انتہائی جنوبی مقام سے اپنے گھر واپسی کا سفر پیدل شروع کیا تھا اور آج، تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد، وہ اپنی منزل سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ہے، مگر قسمت نے اس کے راستے میں ایک اور بڑی آزمائش رکھ دی ہے۔
کارل بشبی کون ہے ؟

کارل بشبی نے 1998ء میں جنوبی امریکہ کے ملک چلی کے شہر پنٹا آریناس سے اپنی مہم کا آغاز کیا۔ اس وقت اس کی عمر صرف 29 برس تھی اور اس نے اعلان کیا کہ وہ دنیا کا چکر مکمل طور پر پیدل لگاتے ہوئے اپنے آبائی شہر ہل واپس پہنچے گا۔ اس نے اپنی مہم کے آغاز ہی میں دو اصول طے کیے۔ پہلا یہ کہ وہ کسی بھی موٹر گاڑی، ٹرین، ہوائی جہاز یا عام مسافر کشتی کی مدد نہیں لے گا، جبکہ دوسرا اصول یہ تھا کہ جب تک پیدل چل کر اپنے وطن واپس نہیں پہنچ جاتا، وہ برطانیہ کی سرزمین پر قدم نہیں رکھے گا۔
اس غیر معمولی مہم کو بعد میں “گولیاتھ ایکسپیڈیشن” کا نام دیا گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ دنیا کی طویل ترین اور منفرد پیدل مہمات میں شمار ہونے لگی۔ ابتدا میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ سفر 10 سے 12 برس میں مکمل ہو جائے گا، لیکن بدلتے ہوئے عالمی حالات، سرحدی پابندیوں، ویزا مسائل، مالی مشکلات، کورونا وبا اور مختلف ممالک کے قوانین نے اس سفر کو تقریباً 27 برس تک پھیلا دیا۔ ان ستائیس برسوں کے دوران کارل بشبی نے ہزاروں میل پیدل سفر کیا۔ اس نے جنوبی امریکہ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں، وسطی امریکہ کے جنگلات، شمالی امریکہ کے وسیع میدانوں، روس کے برف پوش علاقوں، وسطی ایشیا کے صحراؤں اور یورپ کے مختلف ممالک سے گزرتے ہوئے اب تک تقریباً 58 ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر لیا ہے۔
اس مہم کے دوران اسے کئی خطرناک علاقوں سے بھی گزرنا پڑا۔ دنیا کے خطرناک ترین جنگلات میں شمار ہونے والا ڈیرین گیپ بھی اس کے راستے میں آیا، جہاں گھنے جنگلات، زہریلے جانور، مسلح گروہ اور دشوار گزار راستے عام مسافروں کے لیے خوف کی علامت سمجھے جاتے ہیں، مگر بشبی نے یہ مرحلہ بھی کامیابی سے عبور کر لیا۔ اس کے سفر کا ایک اور تاریخی لمحہ وہ تھا جب اس نے برف سے جمے ہوئے بیرنگ آبنائے کو پیدل عبور کیا۔ اس دوران روسی حکام نے اسے سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار بھی کیا اور کچھ عرصہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں اسے رہائی ملی اور اس نے دوبارہ اپنا سفر شروع کر دیا۔ کارل بشبی کے مطابق اس سفر کے دوران اسے صرف قدرتی خطرات ہی نہیں بلکہ مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کئی مواقع پر اس کے پاس کھانے پینے اور رہائش کے اخراجات تک موجود نہیں تھے۔ اس نے کئی راتیں کھلے آسمان تلے یا خیمے میں گزاریں، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں عام لوگوں نے اسے اپنے گھروں میں جگہ دی، کھانا کھلایا اور مالی مدد بھی فراہم کی 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران اس کے کئی اسپانسرز نے مالی تعاون بند کر دیا، جس کے باعث اس کی مہم کئی برس تک تعطل کا شکار رہی، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور نئے وسائل حاصل کرکے اپنا سفر جاری رکھا۔
اٹلی میں ویسپا سکوٹر کی 80ویں سالگرہ ، ریلی نکالی گئی
کورونا وبا نے بھی اس کی مہم کو شدید متاثر کیا۔ کئی ممالک نے اپنی سرحدیں بند کر دیں، ویزا جاری ہونا رک گئے اور بین الاقوامی سفر محدود ہو گیا، جس کے باعث وہ کئی ماہ تک مختلف مقامات پر رکا رہا، تاہم حالات معمول پر آنے کے بعد اس نے ایک مرتبہ پھر اپنی منزل کی جانب سفر شروع کر دیا۔ گزشتہ برس اس نے ایک اور حیران کن کارنامہ انجام دیا جب اس نے بحیرہ کیسپین کو تیراکی کے ذریعے عبور کیا۔ اس مہم کے دوران وہ روزانہ کئی گھنٹے پانی میں تیرتا رہا جبکہ رات کے وقت امدادی کشتی پر آرام کرتا تھا۔ اس مرحلے نے بھی دنیا بھر میں اس کی ہمت اور عزم کو سراہا گیا۔ اب کارل بشبی اپنے وطن برطانیہ سے صرف چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، لیکن اس کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ انگلش چینل آ کھڑا ہوا ہے۔ چونکہ اس نے اپنی مہم کے آغاز میں یہ عہد کیا تھا کہ وہ کسی بھی موٹرائزڈ سواری کا استعمال نہیں کرے گا، اس لیے وہ چینل ٹنل کے سروس راستے سے پیدل گزر کر برطانیہ پہنچنا چاہتا تھا۔
برازیل میں 150سال پرانے گھر کی تزئین کے دوران ہزاروں انسانی باقیات دریافت
تاہم ٹنل انتظامیہ نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سروس ٹنل صرف ہنگامی حالات اور دیکھ بھال کے کاموں کے لیے مخصوص ہے اور اسے کئی گھنٹوں کے لیے بند نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے بعد اب کارل بشبی کے پاس انگلش چینل کو تیر کر عبور کرنے کا راستہ بچتا ہے، لیکن یہاں بھی قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق چینل میں تیراکی سے متعلق سخت قوانین نافذ ہیں اور کسی بھی شخص کو خصوصی اجازت کے بغیر اس راستے پر تیراکی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بشبی اس وقت متعلقہ حکام سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی 27 سالہ مہم کو منطقی انجام تک پہنچا سکے۔ کارل بشبی کا کہنا ہے کہ اس طویل سفر نے اسے دنیا اور انسانیت کے بارے میں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اس کے مطابق اگرچہ مختلف ممالک، زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن عام انسان ہر جگہ مدد کرنے اور محبت بانٹنے کے جذبے سے سرشار ہے۔ اس نے کہا کہ جب بھی وہ کسی مشکل میں پھنسا، اجنبی لوگوں نے اس کی مدد کی، جس سے اس کا انسانیت پر اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوا۔
رہائش کے لیے دنیا کا بہترین شہر کون سا ہے؟ کراچی کا پھر آخری نمبر
دنیا بھر کے مہم جو اور سیاح اب اس کی آخری منزل کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اگر وہ انگلش چینل کی رکاوٹ بھی عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ دنیا کا پہلا شخص بن جائے گا جس نے بغیر کسی موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ کے تقریباً تین دہائیوں پر محیط مسلسل پیدل اور تیراکی کے ذریعے دنیا کا چکر مکمل کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کارل بشبی کی یہ مہم صرف ایک سفر نہیں بلکہ انسانی عزم، استقلال اور حوصلے کی ایسی داستان بن چکی ہے جسے آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
ہاتھی نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کوڈھونڈ ڈھونڈ کر مار ڈالا

