Skip to main contentSkip to footer

برازیل میں 150سال پرانے گھر کی تزئین کے دوران ہزاروں انسانی باقیات دریافت

برازیل

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں واقع تقریبا 150 برس پرانے ایک گھر کی مرمت کے دوران انسانی باقیات دریافت ہوئی ہیں ۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق بظاہر معمولی دکھنے والے اس گھر کے فرش کے نیچے انسانی ہڈیاں ملنے کے بعد ماہرین آثارِ قدیمہ نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ مکان دراصل ایک قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا

جو غلامی کے دور میں افریقہ سے لائے گئے غلاموں کی تدفین کے لیے استعمال ہوتا تھا

برطانیہ میں جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

 

۔یہ دریافت 1996 میں اس وقت ہوئی جب گھر کی مالکہ مرسڈیز بپٹسٹا گومز پریرا نے معمول کی تزئین و آرائش کے لیے فرش تڑوایا۔ مزدوروں کو اینٹوں کے نیچے انسانی ہڈیاں، دانت اور دیگر باقیات ملیں۔ بعد میں ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ مقام 18ویں اور 19ویں صدی میں استعمال ہونے والے تاریخی قبرستان کا حصہ تھا۔مورخین کے مطابق 1769 سے 1830 کے درمیان اس قبرستان میں تقریبا 20 ہزار سے 40 ہزار افریقی نژاد غلام دفن کیے گئے تھے۔ یہ وہ افراد تھے جو بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے دوران یا برازیل پہنچنے کے فورا بعد بیماری، بھوک یا بدترین حالات کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔

لاشوں کو اکثر اجتماعی قبروں میں دفن یا جلا دیا جاتا تھا۔گھر کی مالکہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گھر کے فرش کا کوئی بھی حصہ توڑیں گے تو نیچے ہڈیاں مل جاتی ہیں۔ خاتون کے مطابق ابتدا میں انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کا گھر ایک تاریخی اجتماعی قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔بعد ازاں اس مقام پر پروتوس نووس انسٹی ٹیوٹ نامی میوزیم قائم کیا گیا جہاں آثارِ قدیمہ کی باقیات محفوظ کی گئی ہیں۔

 

افغان مہاجرین کی گرفتاری، ڈیڈلائن میں صرف 4 روز باقی رہ گئے

Previous Post
افغان مہاجرین کی گرفتاری، ڈیڈلائن میں صرف 4 روز باقی رہ گئے