اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود امن و امان کی صورتحال میں بہتری نہ آسکی، دہشت گردی کے واقعات میں اضافے، پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اور پولیو ٹیموں پر حملوں نے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مہمند سے جنوبی اضلاع تک بدامنی کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جبکہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت ذمہ داریاں سنبھالنے والے عہدیداروں کی عملی کارکردگی بھی زیر بحث آنے لگی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابقہ قبائلی اضلاع، بالخصوص ضلع مہمند سمیت جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ضلع مہمند میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت سمیت مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جبکہ پولیو ٹیموں پر حملوں نے بھی سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مفتی محمود مرکز کے حوالے سے اہم دستاویزات منظر عام پر آگئیں
جنوبی اضلاع ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت سمیت سابقہ قبائلی علاقوں میں بھی بدامنی اور خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔ پولیس اہلکاروں کی جانوں کو درپیش خطرات اور عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ آج صبح ہی ٹانک سے پولیو کے چاراہلکاروں کو اغوا کرلیا گیا ہے جبکہ گورنر فیصل کنڈی نے روایتی نوٹس لے کر اغوا ہونے والے اہلکاروں کی جلد بازیابی کی ہدایت اور اغوا کاروں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دیدیا ہے جبکہ مہمند کے علاقہ پنڈیالئی میں ہاشم کور چیک پوسٹ کے قریب آج فائرنگ کرکے پولیو ٹیموں کی سیکورٹی پر مامور دو اہلکاروں کو شہید کردیا گیا ۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ اور نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت مختلف عہدوں پر تعینات کوآرڈینیٹرز اور دیگر ذمہ داران کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب امن و امان کی بہتری کے لیے نیا انتظامی نظام متعارف کرایا گیا ہے تو اس کے عملی نتائج زمینی سطح پر کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟ حساس اضلاع کے لیے مقرر کردہ ذمہ داران کہاں ہیں اور پولیس اہلکاروں، پولیو ورکرز اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی ہے؟
ہنگو میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد قتل، کمسن بچہ بھی شامل
سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کرنے والے متعلقہ حکام نے اب تک کیا عملی اقدامات کیے ہیں اور بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام اب محض اعلانات اور انتظامی تبدیلیوں کے بجائے پولیس اہلکاروں، پولیو ورکرز اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اور سیکیورٹی صورتحال میں واضح بہتری کے منتظر ہیں۔
سہیل آفریدی کی بازیابی کیلئے لارجز بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

