Skip to main contentSkip to footer

جین زی کا احتجاج جرمنی تک پہنچ گیا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

جین زی کا احتجاج جرمنی تک پہنچ گیا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

جرمنی میں بھی نوجوانوں کی جانب سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک زور پکڑنے لگی ہے، جہاں ہفتے کے روز ملک کے 34 شہروں میں مظاہر ے کئے گئے ۔ منتظمین کے مطابق ان مظاہروں میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی جن کا مطالبہ بہتر تعلیمی سہولیات، بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی اور نوجوانوں پر اضافی بوجھ ختم کرنا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں یہ مظاہرے ایک نوجوانوں کی تنظیم جن زی ریگلٹ کے زیر اہتمام کیے جا رہے ہیں۔ اس تحریک کا مقصد نوجوان نسل کے مسائل کو حکومتی توجہ میں لانا ہے۔ مظاہروں کا انعقاد برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں کیا جائے گا۔مظاہرین لازمی فوجی سروس کے بھی مخالف ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کرے۔

دسمبر، جنوری اور فروری بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین مہینے ہونے کا خدشہ

جرمنی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے باعث نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جس پر وہ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں۔جرمنی میں یہ احتجاج یورپ کے دیگر ممالک میں ہونے والے نوجوانوں کے مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ رواں سال سربیا میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی احتجاجی تحریک نے سیاسی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ فرانس میں نوجوانوں کے مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی، لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی پیش آئے۔جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے بعض بائیں بازو کے انتہا پسند حلقوں اور بیرون ملک کی انتہا پسند تنظیموں سے منسلک کچھ گروہوں نے بھی ان مظاہروں کی حمایت میں لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوسیک نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ذہنوں میں فرانس کے مظاہروں کی تصاویر موجود ہیں، جہاں دکانوں میں لوٹ مار کی گئی، گھروں اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور پولیس اہلکاروں پر حملے ہوئے۔

گوگل کو ایک دن میں 500 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان

ان کا کہنا تھا کہ فرانس کی صورتحال کو اس حوالے سے مثال نہیں بنانا چاہیے۔دوسری جانب ممکنہ ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر برلن کی مشہور اور مہنگی خریداری کی شاہراہ کرفورسٹنڈام پر بعض کاروباری مراکز نے اپنی دکانوں کی کھڑکیوں پر حفاظتی تختے لگا دئیے ، جبکہ کچھ دکانداروں نے مظاہروں کے دن جلد کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔مظاہروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو درپیش معاشی اور تعلیمی مسائل اجاگر کرنا ہے۔ دوسری جانب اٹلی کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے مہنگائی، کم اجرت اور فوجی اخراجات میں اضافے کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی۔مظاہروں میں زیادہ تر طلبہ اور مزدور شریک تھے جنہوں نے تنخواہوں میں اضافے اور عوامی خدمات کی بہتری کا مطالبہ کیا۔یونین سنداکالے دی بازے نامی مزدور تنظیم نے ملک بھر میں 24 گھنٹے کی عام ہڑتال کی کال دی تھی جس کے تحت 40 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔رپورٹس کے مطابق مظاہروں کی مجموعی صورتحال پرامن رہی

پاکستان میں 2.985 کھرب روپے کے ڈیموں اور پن بجلی منصوبوں پر کام جاری

تاہم بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی۔شہر ٹورین میں پولیس نے سرکاری عمارت کی سکیورٹی کے لیے قائم حصار کی جانب بڑھنے والے طلبہ اور بائیں بازو کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔دارالحکومت روم میں مظاہرین نے کولوسیم کے قریب بڑا مارچ کیا اور ہفتے کے اختتام تک وہاں خیمے لگا کر دھرنا دینے کا اعلان کیا، بعض مقامات پر کوڑے دان سڑکوں پر رکھ کر آگ لگا دی گئی۔اطالوی خبر رساں ادارے انسا کے مطابق شام کے وقت مظاہرین کے ایک بڑے گروپ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔پولیس رکاوٹیں عبور کرنے کی بار بار کوشش پر آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

 

بجلی 2 روپے 56 پیسے مہنگی ہونے کا امکان

اگلی پوسٹ
اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے مزید گھر تباہ کرکے ہزاروں کو بے گھر کر دیا
پچھلی پوسٹ
گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو نقصان ہو سکتا تھا،شہبازشریف