Skip to main contentSkip to footer

پاکستان میں 2.985 کھرب روپے کے ڈیموں اور پن بجلی منصوبوں پر کام جاری

پانی کی قلت سے نمٹنے کی تیاری' 4بڑے ڈیموں کی تعمیر تیز

پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی پانی اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2.985 کھرب روپے مالیت کے 13 بڑے غیر ملکی مالی معاونت سے جاری پن بجلی اور آبی ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پی ایس ڈی پی 2026-27 کے مطابق حکومت نے ان منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 65.18 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں 51.45 ارب روپے روپے کی صورت میں فراہم کیے جائیں گے۔ان منصوبوں میں بڑے ڈیموں کی تعمیر، پن بجلی گھروں کی توسیع اور بحالی، آبپاشی کے نظام کی ترقی اور سیلاب سے بچا کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری شامل ہے۔ ان منصوبوں پر 30 جون 2026 تک مجموعی اخراجات 1.129 کھرب روپے ریکارڈ کیے گئے تھے۔

بھوٹان میں گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے سیلاب، کئی بھارتی ریاستوں میں ہائی الرٹ

اہم منصوبوں میں خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو پن بجلی منصوبہ (پہلا مرحلہ) سب سے زیادہ منظور شدہ لاگت کا حامل ہے جس کی مالیت 1.738 کھرب روپے ہے۔ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے اس منصوبے کو 15 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ اس پر مجموعی اخراجات 472.90 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ منصوبے پر عملی کام 27 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ، جس میں تانگیر پن بجلی کا حصہ بھی شامل ہے، ایک اور بڑا منصوبہ ہے۔ اس کی منظور شدہ لاگت 479.69 ارب روپے ہے جبکہ موجودہ مالی سال کے لیے 10.01 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے پر مجموعی اخراجات 209.72 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور عملی پیش رفت 47 فیصد ہے۔اسی طرح 800 میگاواٹ کے مہمند ڈیم پن بجلی منصوبے کے لیے اس کی منظور شدہ لاگت 309.56 ارب روپے کے مقابلے میں 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے پر مجموعی اخراجات 223.75 ارب روپے ہو چکے ہیں جبکہ عملی پیش رفت 81 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے علاوہ اس ڈیم سے پانی ذخیرہ کرنے، آبپاشی کی ترقی اور سیلاب سے نمٹنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔ان تین بڑے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 47.01 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو 13 غیر ملکی معاونت یافتہ منصوبوں کے لیے مختص کل رقم کا تقریبا 72 فیصد بنتے ہیں۔نئے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ حکومت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور عملی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے موجودہ پن بجلی گھروں کو بھی جدید بنا رہی ہے۔

چین کی مالی معاونت سے جیوڈیٹک ڈیٹم منصوبے پر پیش رفت

1,410 میگاواٹ کے تربیلا پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کے لیے 3.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح منگلا پاور اسٹیشن کی مرمت اور جدید کاری کے لیے 1.48 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کا مقصد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو 1,000 میگاواٹ سے بڑھا کر 1,310 میگاواٹ کرنا ہے۔دیگر منصوبوں میں درگئی پن بجلی گھر کی بحالی کے لیے 2.06 ارب روپے اور ورسک پن بجلی گھر کی دوسری مرتبہ بحالی کے لیے 2.28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔34.5 میگاواٹ کے ہارپو پن بجلی منصوبے کے لیے 2.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ چترال پن بجلی گھر کی صلاحیت 1 میگاواٹ سے بڑھا کر 5 میگاواٹ کرنے کے لیے 736 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں۔بجلی کی پیداوار کے علاوہ غیر ملکی مالی معاونت سے ہونے والی سرمایہ کاری پانی کے تحفظ اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی مدد دے رہی ہے۔نولانگ ڈیم منصوبے کے لیے 903 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ کرم تنگی ڈیم منصوبے کے تحت کیتو آبپاشی اور بجلی منصوبے کے لیے 100 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں۔سیلاب سے تحفظ بھی ترقیاتی پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔ حکومت نے سیلاب سے تحفظ کے شعبے کے منصوبے کے لیے 1.5 ارب روپے اور دریائے سندھ کے طاس میں سیلابی انتظامات بہتر بنانے کے منصوبے کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ان منصوبوں پر کامیابی سے عمل درآمد ہونے سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ، زرعی پیداوار میں بہتری اور ملک کے طویل مدتی توانائی اور آبی وسائل کے انتظام کے مقاصد کے حصول میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

 

دسمبر، جنوری اور فروری بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین مہینے ہونے کا خدشہ

اگلی پوسٹ
فی الحال شادی کا ارادہ نہیں’ جھانوی کپور
پچھلی پوسٹ
بھوٹان میں گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے سیلاب، کئی بھارتی ریاستوں میں ہائی الرٹ