Skip to main contentSkip to footer

چین کی مالی معاونت سے جیوڈیٹک ڈیٹم منصوبے پر پیش رفت

چین مئی کے دوران پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سر فہرست

پاکستان کا چین کی مالی معاونت سے جاری 12.9 ملین ڈالر مالیت کا نیو جنریشن جیوڈیٹک ڈیٹم منصوبہ پیش رفت کر رہا ہے جبکہ آلات کی نویں کھیپ کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنی دینے کا عمل جاری ہے۔ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق سروے آف پاکستان وزارت دفاع کے تحت چین کی مالی معاونت سے اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہا ہے۔منصوبے کے لیے چین کی جانب سے 12.895 ملین ڈالر کی امداد مختص کی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے دوطرفہ معاہدے پر 13 مئی 2017 کو دستخط کیے گئے تھے۔ منصوبہ 30 جون 2027 تک مکمل ہونے کا مقررہ ہدف رکھتا ہے۔دستاویز کے مطابق منصوبے پر اس وقت عمل درآمد جاری ہے جبکہ آلات کی نویں کھیپ کو ڈیوٹی سے استثنی دینے کا معاملہ زیرِ کارروائی ہے۔ آلات کی کھیپ سے متعلق معاملہ ضروری کارروائی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھیج دیا گیا ہے۔

سلک روڈ فیسٹیول،خطاطی چین اور پاکستان کے درمیان دوستی کا پل بن گئی

یہ پیش رفت پاکستان کے جغرافیائی حوالہ جاتی نظام کو جدید بنانے کے لیے درکار خصوصی آلات کی خریداری اور تنصیب میں سہولت فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔منصوبے کا مقصد ایک جدید جیوڈیٹک ڈیٹم قائم کرنا ہے تاکہ قومی نقشہ سازی، زمین کی پیمائش اور جغرافیائی محلِ وقوع کے تعین کے نظاموں کی درستگی اور قابلِ اعتماد ہونے میں بہتری لائی جا سکے۔جیوڈیٹک ڈیٹم جغرافیائی نقاط کے درست تعین کے لیے بنیادی حوالہ جاتی نظام ہوتا ہے، اس لیے یہ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، انجینئرنگ منصوبوں، زمین کی پیمائش اور مصنوعی سیاروں پر مبنی مقام کے تعین کی ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم ہے۔نیو جنریشن کا نظام قائم ہونے سے سروے آف پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سرکاری اداروں اور ترقیاتی ایجنسیوں کو دستیاب جغرافیائی معلومات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔جدید جغرافیائی بنیادی ڈھانچہ شاہراہوں، ریلوے نیٹ ورکس، ڈیموں، شہری ترقیاتی منصوبوں اور دیگر بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور تکمیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ زیادہ درست جغرافیائی معلومات فراہم کرکے زمین کے انتظام، قدرتی آفات کے خطرات کے جائزے، ماحولیات کی نگرانی اور قدرتی وسائل کے انتظام کو بھی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔یہ منصوبہ خاص طور پر اس وقت اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان سرکاری خدمات کو زیادہ ڈیجیٹل بنانے اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں جغرافیائی معلوماتی نظام کے بڑھتے ہوئے استعمال کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔

جڑواں شہر معاہدہ، چین کااعلیٰ سطحی وفد ہنزہ پہنچ گیا

درست جغرافیائی معلومات سرکاری محکموں کو بہتر رابطہ کاری، زمین کی پیمائش میں اختلافات کم کرنے اور مختلف شعبوں میں شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔چینی امداد سے جاری یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے ترقیاتی تعاون کو جدید سائنسی اور تکنیکی شعبوں تک وسعت دینے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔روایتی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے آگے بڑھ کر ایسے منصوبے طویل مدتی اقتصادی جدیدیت کے لیے ضروری خصوصی تکنیکی صلاحیتوں کی ترقی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو بہتر قومی جغرافیائی حوالہ جاتی نظام فراہم ہونے کی توقع ہے جس سے زمین کی پیمائش کے کام زیادہ درست ہوں گے اور ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد ملے گی۔یہ منصوبہ پاکستان کے تکنیکی بنیادی ڈھانچے، ادارہ جاتی صلاحیت اور پائیدار ترقی کے امکانات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

 

چین میں عام شخص نے اڑنے والا منفرد ہوور بورڈ تیار کرلیا

اگلی پوسٹ
بھوٹان میں گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے سیلاب، کئی بھارتی ریاستوں میں ہائی الرٹ
پچھلی پوسٹ
قبضہ مافیا سے ہماری 22 کنال زمین واپس دلائی جائے ، قائم شاہ