رکن مشاورتی کونسل برائے صنعت، حرفت و فنی تعلیم ڈاکٹر محمد ارشاد نے منگل کے روز نوشہرہ اکنامک زون ایکسٹینشن میں تقریباً 40 کروڑ (400 ملین) روپے کی لاگت سے قائم ہونے والے تین نئے صنعتی یونٹس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔یہ پیشرفت رکن مشاورتی کونسل ڈاکٹر محمد ارشاد کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اکنامک زون کے پہلے باضابطہ دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (KPEZDMC) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) شہریار گل اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔سرکاری حکام کے مطابق، ان نئے صنعتی یونٹس کے قیام سے علاقے میں 500 تک بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔افتتاح کیے جانے والے یونٹس میں 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے قائم ‘مانی فوڈز’ شامل ہے، جو 400 افراد کو روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دیگر دو یونٹس میں ‘صورت خان پلاسٹک’ (جو ری سائیکل شدہ پلاسٹک پیلٹس تیار کرے گا) اور ‘ڈائنامک منرلز پروسیسنگ یونٹ’ شامل ہیں
پانچ سال کے دوران 11 ہزار ارب کی ٹیکس چھوٹ دینے کا انکشاف
جو مقامی طور پر حاصل کردہ معدنیات کو صنعتی استعمال اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو برآمد کرنے کے لیے تیار کرے گا۔ ان دونوں یونٹس میں مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے 100 کے قریب ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ارشاد نے مقامی سطح پر سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لیے بروقت انتظامی فیصلوں، صنعتی خدمات میں بہتری اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ زون مینیجرز کو زیادہ اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ سرمایہ کاروں کے مسائل مقامی سطح پر فوری حل کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ KPEZDMC کی جانب سے ای آر پی (ERP) پر مبنی ڈیجیٹل اصلاحات کے نفاذ سے صنعتی امور میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اور نوشہرہ اکنامک زون میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔رکن مشاورتی کونسل نے "کلین اینڈ گرین زون” اقدام کے تحت ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا
ٹیکسٹائل صنعت نے برآمدات بڑھانے کے لیے ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا
اور اکنامک زون میں 1٫000 پودے لگانے کی شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔دورے کے دوران انہوں نے زون کے موجودہ آپریشنز، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ‘دیار اسپلنٹس’ (DIYAR Splints) کا بھی دورہ کیا تاکہ وہاں کمرشل پیداوار کے آغاز سے قبل نصب کی جانے والی جدید امپورٹڈ مشینری کا معائنہ کیا جا سکے۔اس موقع پر کے پی ای زیڈ ڈی ایم سی (KPEZDMC) کے سی ای او شہریار گل کا کہنا تھا کہ کمپنی صنعت کاروں کو درپیش آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے اور زون کی سطح پر خدمات کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ صوبے بھر میں صنعتی ترقی اور روزگار کو فروغ دیا جا سکے۔

