Skip to main contentSkip to footer

پانچ سال کے دوران 11 ہزار ارب کی ٹیکس چھوٹ دینے کا انکشاف

پانچ سال کے دوران 11 ہزار ارب کی ٹیکس چھوٹ دینے کا انکشاف

حکومت کی جانب سے پانچ سال کے دوران 11 ہزار ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خزانہ نے گزشتہ پانچ سال کے دوران ٹیکس چھوٹ سے متعلق تفصیلات پیش کر دیں۔وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2020-21 سے 2024-25 تک مجموعی طور پر 11 ہزار 47 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، جس میں انکم ٹیکس کی مد میں 580 ارب، سیلز ٹیکس میں ایک ہزار 274 ارب اور کسٹم ڈیوٹی میں 499 ارب روپے شامل ہیں۔اجلاس میں حکومت نے نوجوانوں کے لیے 300 ارب روپے کے قرضوں، ترقیاتی منصوبوں اور جامعات میں لازمی انٹرن شپ سے متعلق تفصیلات بھی پیش کیں۔

پاکستان کی ملبوسات کی برآمدات ریکارڈ 4.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون پروگرام کے تحت 5 لاکھ 18 ہزار نوجوانوں کو قرضے دیے گئے، جبکہ 2 لاکھ 30 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق انڈرگریجویٹ ڈگری پروگراموں میں کم از کم تین کریڈٹ آورز کی انٹرن شپ یا فیلڈ تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایچ ای سی نے 47 شعبہ جات کے قومی نصاب پر بھی نظرثانی کی ہے۔کھاد کی قیمتوں پر حکومت نے یوریا کی قلت کی تردید کی تاہم ڈی اے پی کی قیمت 14 ہزار 500 سے بڑھ کر 17 ہزار 500 روپے ہونے کا اعتراف کیا۔ ایلپی جی کی قیمتوں پر حکومت نے غریب گھرانوں کو ریلیف دینے کے لیے نئی پالیسی ایک سے دو روز میں مکمل کرنے کا اعلان کیا۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹریز کے دوسری وزارتوں کے سوالات کے جوابات دینے پر اسپیکر اور وزیر پارلیمانی امور کے درمیان اختلاف بھی سامنے آیا۔بعدازاں کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس منگل کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

ٹیکسٹائل صنعت نے برآمدات بڑھانے کے لیے ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

اگلی پوسٹ
پشاور میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی
پچھلی پوسٹ
بارشوں کا طاقتور سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی، الرٹ جاری