Skip to main contentSkip to footer

خطے میں قیام امن کی کوششیں تیز، فیلڈ مارشل کی تجویز پر تہران میں اجلاس

خطے میں قیام امن کی کوششیں تیز، فیلڈ مارشل کی تجویز پر تہران میں اجلاس

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تجویز پر ایران کے دارالحکومت تہران میں مکہ اتحاد رکن ممالک اور ایرا ن کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران کشیدگی اوراسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر بات چیت کی گئی ۔ایرانی میڈیا کے مطابق جاری اعلامیہ میں کہاگیاکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے اجلاس کی میزبانی کی، اجلاس میں صدر مسعود پزشکیان ، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی شریک ہوئے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی موجود تھے۔اعلامیے کے مطابق ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پر مشتمل 4 ملکی اجلاس میں علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران میں اس مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دور ایران کے دوران پیش کی جسے ایرانی حکام نے قبول کیا ۔اسماعیل بقائی نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک ہوئے ۔

امریکا کا ایمرجنسی عملے کے سوا باقی سب کو فوری سعودیہ چھوڑنے کا حکم

انھوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی شامل ہے۔ بقائی کے مطابق خطے کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف پہلو اس اجلاس کے اہم موضوعات تھے ۔ چارملکی اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور باہمی مفاہمت کا باعث بننے والی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ مسلم ممالک اپنی مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیا کے سامنے انصاف اور ترقی کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں،اسلامی ممالک کا اتحاد اسرائیل کو جارحیت جاری رکھنے سے روک سکتا ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل کا خیال تھا کہ فوجی جارحیت ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گی، تاہم دبائو اور فوجی کارروائیوں نے ایرانی قوم کے اتحاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔مسعود پزشکیان کے مطابق خطے نے حالیہ برسوں میں اسرائیلی جرائم کی وسیع لہر دیکھی ہے، نقصانات اور مشکلات کے باوجود ایرانی قوم اپنے وطن کے دفاع پر ڈٹی رہی۔انہوں نے کہا کہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا تصور غلط ہے۔ صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، سلامتی اور ترقی کے فروغ میں بھرپور تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔اس موقع پر انہوں نے غزہ، لبنان، ایران اور خطے کے دیگر حصوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ایرانی صدر نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کا خواہاں نہیں ہے تاہم وہ جوہری عدم پھیلا کے معاہدے کے تحت اپنی پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کے حق پر پوری طرح قائم ہے۔

حافظ نعیم کا 150 شہروں میں دھرنے دینے اور لانگ مارچ کی تیاری کا اعلان

قبل ازیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے حکام سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملاقات کی۔اسے قبل ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام کا استقبال کیا۔دوسری جانب ایوان صدر سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ صدر مسعود پزشکیان نے پیر26 اکتوبر 2026 کی سہ پہر سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم کالین سے ملاقات میں اسلامی ممالک کے درمیان ان ملاقاتوں اور مذاکرات کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے عالم اسلام کی بنیادی مشترکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا عقیدہ اور یقین ہے کہ اسلامی ممالک کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات کی بنیاد پر اخوت اور اتحاد کے اصول کو اپنے تعلقات کی بنیاد بنانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور انھیں مسلم اقوام کو نشانہ بنانے والے خطروں اور اقدامات کے خلاف ایک متحد قوت کی طرح کھڑے ہونا چاہیے

خیبر پختونخوا پولیس کیلئے جدید آلات اور خصوصی پیکیج کا اعلان

اگر ہم اس بنیادی اصول کو اپنے باہمی تعلقات کی بنیاد بنائیں تو اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات اور مسائل پیدا ہونے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔قبل ازیں ریاض سے سعودی وزارت خارجہ کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں کے ہمراہ تہران پہنچے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دورہ تہران کا مقصد موجودہ بحران کم اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقاتوں میں پاکستان اور قطر کی طرف سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہاکہ دوبارہ فوجی کشیدگی روکنے کے لیے بات چیت کی راہیں کھولنے پر زور دیتے ہیں۔ امید ہے کہ خطے میں امن کیلئے موجودہ بحران کے خاتمے کا معاہدہ طے پا جائے۔یاد رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اگست 2026 میں مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے میں رکن ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اس معاہدے کے بعد اکتوبر کے آغاز میں تینوں ممالک کے اعلیٰ دفاعی حکام نے ریاض میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے انتظامات پر اتفاق کیا گیا۔ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آئی تھی

 

تب میر جعفر تھا… آج کون ہے؟

اگلی پوسٹ
پشاور ماسٹر پلان کے 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت
پچھلی پوسٹ
علی امین اور شاندانہ گلزار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ