Skip to main contentSkip to footer

امریکا کا ایمرجنسی عملے کے سوا باقی سب کو فوری سعودیہ چھوڑنے کا حکم

trump iran attack

امریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ یہ حکم 23 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری سکیورٹی الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے جس کے باعث شہریوں کی سلامتی اور فضائی سفر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔امریکی سفارت خانے کے مطابق سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو مملکت کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے پہلے چیف آف مشن سے خصوصی اجازت لینا ہوگی۔سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ مزید میزائل اور ڈرون حملوں، فضائی حدود بند ہونے، پروازیں منسوخ ہونے اور سفری نظام میں خلل پڑنے کا امکان موجود ہے۔

دنیا میں سالانہ 24کروڑ افراد بھنگ اور چرس کے عادی ہونے لگے

حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ہوائی اڈے جانے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ صورتِ حال معلوم کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتیں۔ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 25 اکتوبر کو محدود پیمانے پر آپریشنز بحال کرنے کا اعلان کیا۔ اس دوران اندرونِ ملک پروازوں اور سعودی قومی ایئرلائنز کی بعض بین الاقوامی پروازوں کو اجازت دی گئی۔امریکی سفارت خانے کے مطابق، ریاض ایئرپورٹ پر عام طور پر موجود رہنے والی چند پروازیں قصیم کے شہزادہ نایف بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھی چلائی جا رہی ہیں۔مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بکنگ اور روانگی کے اوقات کی تصدیق کیے بغیر ایئرپورٹ کا رخ نہ کریں۔امریکی سفارت خانے کے مطابق، جدہ کا کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کا کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ فعال ہیں

سمندری طوفان کے باعث مشرقی ایشیا میں زندگی مفلوج، سکول بند

تاہم وہاں بھی بعض پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات ہیں۔یہ سفری ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات برقرار ہیں۔سعودی عرب جانے یا وہاں سے دوسرے ممالک کا سفر کرنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی ایئرلائنز اور متعلقہ ہوائی اڈوں سے تازہ معلومات حاصل کریں۔ سکیورٹی صورتِ حال میں کسی بھی تبدیلی کے باعث پروازوں کے اوقات اور فضائی آپریشنز متاثر ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے ، آئی ایم ایف

اگلی پوسٹ
آگمنٹین ،لیگزوبرون جعلی نکلے، نمونوں میں مئوثر اجزاء شامل ہی نہیں
پچھلی پوسٹ
دہشتگردی کے نام پر وفاق سے رقم وصول کرکے کرپشن کی نذر کی گئی، فرح خان