پشاور ۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختون خوا فرح خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی 13 سالہ دور حکومت میں خیبر پختون خواہ کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے ووٹوں کا تقدس پامال کیا گیا۔ گورنس نام کی کوئی چیز نہیں تھی ہر وقت کنٹینروں پر چڑھ کر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مرکز پر چڑھائی کی گئی۔ مرکز سے دہشت گردی کے نام پر اربوں روپے وصول کر کے کرپشن کی نظر کیے گئے اور ہیلتھ اور ایجوکیشن میں کرپشن کے ریکارڈ توڑ سکینڈل سامنے ائے جبکہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عوام کے جنازوں میں پی ٹی ائی کے رہنماؤں نے شرکت کرنا اپنی توہین سمجھا۔ یہ وہی تحریک انصاف ہے کہ جس کے بانی عمران خان اپنے دور حکومت میں دہشت گردوں کو پاکستان لائے اور ان کے دفاتر کھولنے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کا نعرے لگانے والوں کے دور میں کرپشن کے تماشے روزانہ کا معمول تھے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کیلئے ہے، فضل الرحمان
پشاور پریس کلب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف وفاق کو پس پشت ڈال کر دہشت گردوں سے مذاکرات اور افغانستان سے مذاکرات کر کے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا چاہتی تھی انہوں نے کہا کہ 13 سالہ دور حکومت میں ایپکس کمیٹی بمشکل بلانے والوں نے دیکھ لیا کہ گورنر راج میں 10 دن کے اندر دو ایپکس کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے انہوں نے کہا کہ اج ترکی اور یورپی ممالک پاکستان سے معاہدے کر رہے ہیں جبکہ خیبر پختون خواہ کا مینڈیٹ حاصل کر کے پاکستان تحریک انصاف مرکز پر چڑھائی کرنا چاہتی تھی اور اس نے دیکھ لیا کہ جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرے گا اس کا حال ایسے ہی ہوگا جو اج ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب ختم ہوئی اور وزیراعلی کے اختیارات گورنروں کو تفویض کیے گئے تو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کسی قسم کا مظاہرہ سامنے نہیں ایا الٹا لوگوں نے مٹھائیاں بانٹی اور ڈولوں کی تھاپ پر رقص کیے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی پشاور ہائیکورٹ میں سماعت
فرح خان نے کہا کہ دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والی پولیس کے لیے وفاق سے 800 ارب روپے فراہم کیے گئے لیکن اس کا کوئی ریکارڈ نہیں پولیس کو اور سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے سامنے بے اسرہ چھوڑا گیا انہوں نے کہا کہ معدنیات کے لائسنس اپنے من پسند افراد کو جاری کیے گئے انہوں نے مولانا فضل الرحمان صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اس نازک دور میں ایسے بیانات سے گریز کریں جس سے سیاسی حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا بیان انتہائی افسوسناک ہے لہذا مولانا صاحب سوچ سمجھ کر بیان دیں کہ نہیں اور اپنے مدبرانہ شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی حالات بہتر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
جمیعت اہلحدیث خیبر پختونخوا نے گورنر راج کی حمایت کا اعلان کر دیا
گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام تیار

