حکومتِ خیبرپختونخوا کے احکامات کی روشنی میں کوہاٹ، ہنگو اور کرک کے اضلاع میں سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت، ساختی مضبوطی اور تعلیمی سرگرمیوں کیلئے موزونیت کا جائزہ لینے کیلئے انکوائری کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر سروے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسکولوں کی عمارتوں کی موجودہ حالت کا تفصیلی جائزہ لینا اور اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا یہ عمارتیں طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کیلئے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے تقاضے پورے کرتی ہیں یا نہیں۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا کے مراسلے اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کی روشنی میں ضلعی سطح پر انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ کمیٹیوں میں مختلف سب ڈویژنز کے تعلیمی افسران اور متعلقہ اہلکار شامل ہیں جنہیں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے اور ان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
سہیل آفریدی کی گرفتاری کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
سروے کے دوران سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی ساختی مضبوطی، موجودہ حالت اور تعلیمی مقاصد کیلئے ان کی موزونیت کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے۔اس عمل کے تحت اسکولوں کی عمارتوں کی مجموعی حالت کا جائزہ لے کر حفاظتی صورتحال سے متعلق ضروری معلومات جمع کی جائیں گی۔ کمیٹیوں کو ضلعی اور تحصیل کی سطح پر اپنے متعلقہ علاقوں میں واقع اسکولوں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں سے متعلق صورتحال کا منظم انداز میں تعین کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں سرکاری و نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کو سروے کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔ حفاظتی جانچ کی یہ سرگرمی طلبہ اور تدریسی عملے کے تحفظ کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اسکولوں کی عمارتوں کی مضبوطی اور جسمانی حالت تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور محفوظ ماحول کی فراہمی سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔
33 بچے، 2 اساتذہ جاں بحق، ہسپتال انتظامیہ نے رپورٹ جاری کردی
سانحہ دیر کالونی کی ایف آئی آر درج، ابتدائی رپورٹ کمشنر کو ارسال





