باڑہ قوم اکاخیل مواز کلے کا گورنمنٹ ہائی سکول 2009ء سے خستہ حالی کا شکار ہے، جہاں سینکڑوں بچے غیر محفوظ عمارت میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اہلِ علاقہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ پشاور کے دیر کالونی میں اسکول سے متعلق افسوسناک واقعے کے بعد مواز کلے اسکول کی خستہ حال عمارت نے بھی بچوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ یہاں کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
اکاخیل مواز کلے سکول 2009ء سے خستہ حال، اہلِ علاقہ کا فوری معائنے کا مطالبہ

نجی سکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم، 15 دن میں رپورٹ طلب
اہلِ علاقہ نے گورنر خیبر پختونخوا اور محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کی عمارت کا فوری معائنہ کرایا جائے۔ خطرناک حصوں میں تدریسی عمل روک کر بچوں کے لیے محفوظ متبادل فراہم کیا جائے اور عمارت کی مکمل تعمیرِ نو کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ کسی سانحے کے بعد افسوس اور تعزیت کرنے کے بجائے پہلے ہی عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ بچوں کی زندگیاں محفوظ بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔





