خیبر پختونخوا میں غیر ائینی اور غیر شرعی گورنر راج لگا کر جمہوریت کو بلڈوز کیا گیا۔ حکمرانوں کے دلوں میں نہ خدا کا خوف ہے اور نہ عدالتوں کا جس کی وجہ سے انہوں نے خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کو گرا کر فرد واحد کو اختیارات حوالے کیے اور معدنیات سے بھرے اضلاع میں ایمرجنسی لگا دی گئی۔ ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک تحفظ ائین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پشاور ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختو نخوامیں لگائے گئے گورنر راج کے خلاف ایک درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔
گورنر راج کے خلاف درخواست کے بعد اچکزئی: اسمبلیاں چھوڑنے کا آپشن موجود
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت یہ اپشن بھی موجود ہے کہ ہم اسمبلیاں چھوڑ دیں کیونکہ حکمران اپنی منمانیوں پر اٹکے ہوئے ہیں ہم نے مذاکرات کے دوران اپنے مطالبات حکومت کو پیش کر دیئے تھے لیکن ایک بہانہ بنا کر مذاکرات ناکام کیے گئے اور خیبر پختو نخوا میں اپنی خواہش کے مطابق جو انہوں نے پہلے سے ارادہ کیا ہوا تھا گورنر راج لگایا گیا۔ محبود خان اچکزئی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ اس صوبے کے ساتھ ہونے والے ظلم کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پشاور کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے یہاں پر غیر قانونی اور غیر ائینی گورنر راج لگایا گیا ہے دنیا جانتی ہے کہ یہاں انتخابات کیسے ہوئے اور کیسے اوروں کو جتوایا گیا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کروڑوں روپے دے کر یہاں کی اسمبیا خریدی گئی ہے تحریک انصاف کے 94 لوگوں کو ایس ایم جی او سے نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اج میری عمر کی عورتیں جیل میں ہیں اور صرف اس لیے کہ انہوں نے الیکشن جیتا ہے۔
پشاور یونیورسٹی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں تاخیر
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم مانتے ہیں لیکن وہ زبردستی خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں فاٹا کو جس طرح خیبر پختون خواہ میں شامل کیا گیا ہم سب نے اس کی بھرپور مخالفت کی لیکن ہمیں خاطر میں نہیں لایا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اور ہم سب نے ایک ائین کے تحت اکٹھے رہنا ہے اور اکٹھے ہیں جو لوگ نہیں مانتے وہ کھل کر بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں ادادوں کے حقوق سلب کیے گئے اسی طرح انہوں نے میڈیا پر بھی پابندی لگائے ہوئے ہیں جو سب دیکھ رہے ہیں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر سے لے کر پنجاب تک صوبے میں جو وسائل پیدا ہوئے وہ اس صوبے کے عوام کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جتنے بھی قیدی ہیں اور ان کو جو سہولیات میسر ہیں اور ان کی اہل خانہ سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں اسی طرح بانی پی ٹی ائی کو بھی وہی سہولیات دی جائیں اور ان کے خاندان کے افراد اور ان کے جاننے والوں سے ان کی ملاقاتیں کرائی جائیں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس سانپ نے پی پی پی اور نون لیگ کو ڈسا تھا اج وہ خیبر پختون خواہ پر حملہ اور ہوئے انہوں نے کہا کہ 12 میں معصوم بچوں پر گولیاں چلائی گئیں۔
مریم نواز نے مولانا فضل الرحمن کو دہشتگردوں کا سہولت کار کہہ دیا
انہوں نے کہا کہ ہم سے انتخابات چھینے گئے اب احتجاج کا موقع بھی چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے جو ہو گیا وہ واپس لے لے اور خیبر پختون خواہ میں جمہوریت قائم کرے اور عوام کے مینڈیٹ سے قائم ہونے والے خیبر پختون خواہ کی حکومت کو واپس بحال کیے جائیں جس میں سب کی بہتری ہے میڈیا سے تحریک تحفظ ائین پاکستان کے رہنما علامہ ناصر عباس راجہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ظالم حکمرانوں کے دلوں میں نہ تو خدا کا خوف ہے اور نہ عدالتوں کا جس کی وجہ سے انہوں نے پہلے دھمکیاں دی اور پھر جمہوریت کا کایا پلٹ کر خیبر پختون خواہ میں ناجائز گورنر راج لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ اپ محب وطن بن جاؤ اس سے زیادہ محب وطنی کیا ہوگی کہ ہم ملک میں جمہوریت کے لیے اواز بلند کر رہے ہیں اور جمہوریت کا راگ علاقے والے صوبوں پر گورنر راج لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مینڈیٹ چوری نہیں کہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال کر خیبر پختون خواہ میں گورنر راج لگایا گیا لوگوں کو خاموشی سے ڈرایا گیا لوگ احتجاج کے لیے اٹھ رہے ہیں اور یہ گولیاں چلا رہے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے کہ حکومتی بھی چھینی جا رہی ہیں اور احتجاج کرنے بھی نہیں دیا جا رہا۔تحریک تحفظ ائین پاکستان کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی گھمبیڈ صورتحال پر ہم تمام سیاسی پارٹیوں کے کے ساتھ رابطوں میں ہے اور عنقریب ال پارٹی کانفرنس بلائی جائے گی اور جو اس میں انا چاہے ہماری ان کو دعوت ہے۔
بچوں کے ٹفن میں پراٹھے دیکھ کر پولیس اہلکار آبدیدہ ہوگیا
منتخب حکومت پر گورنر راج نافذ کرنا غیر آئینی ہے،شاندانہ گلزار





