دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کردی گئی ہے، جس میں حادثے کی ممکنہ وجوہات، چھت کی خستہ حالی اور اسکول کی عمارت کی حالت سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ اسکول کی نچلی عمارت کے سائیڈ والے کلاس روم میں پیش آیا، جہاں تیسری منزل سے چھت نیچے گر گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھت تقریباً 20 سے 25 فٹ کی بلندی سے گری، جس کے باعث کلاس روم متاثر ہوا۔ ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ صوبائی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے، جس میں اسکول کی عمارت کی تعمیر اور چھتوں کی موجودہ حالت سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔
سہیل آفریدی کی گرفتاری کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
رپورٹ کے مطابق اسکول کے تمام کمروں میں تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں، تاہم عمارت کی سب سے بالائی منزل کی چھت بارشوں کے باعث خستہ حال ہوچکی تھی۔ ابتدائی رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسکول کے مالک خان محمد کو بچوں کی جانب سے چھت کی خراب حالت کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چھت کو عارضی سہارا فراہم کرنے کے بعد آج اسکول میں بچوں کو بلایا گیا تھا۔ اس صورتحال کے تناظر میں عمارت کی دیکھ بھال، حفاظتی انتظامات اور بچوں کو اسکول بلانے کے فیصلے سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں، تاہم واقعے کی حتمی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین مزید تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔ ابتدائی رپورٹ میں اسکول کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی اہم نکتہ سامنے آیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسکول کی رجسٹریشن کی تصدیق نہیں ہوسکی، جس کے باعث اس کی قانونی حیثیت سے متعلق معاملہ بھی توجہ طلب ہوگیا ہے۔
اضاخیل گودام میں بارش سے اربوں مالیت کی گندم خراب
ضلعی انتظامیہ نے حادثے سے متاثرہ کلاس رومز کے ساتھ اسکول کی دیگر عمارت کو بھی غیر موزوں قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عمارت کی حفاظت، ممکنہ خطرات اور مستقبل میں اسے استعمال کرنے کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔ دیر کالونی اسکول میں پیش آنے والا یہ واقعہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت، بارشوں سے متاثرہ چھتوں کی بروقت مرمت، حفاظتی انتظامات اور اسکولوں کی رجسٹریشن کی جانچ پڑتال کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تفصیلات ابتدائی رپورٹ سے متعلق فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ حادثے کی حتمی وجوہات، ذمہ داران کے تعین اور ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
33 بچے، 2 اساتذہ جاں بحق، ہسپتال انتظامیہ نے رپورٹ جاری کردی





