Skip to main contentSkip to footer

محفوظ مکانات کی تعمیر میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اقوام متحدہ کا زور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش خطاب کرتے ہوئے

اقوام متحدہ(جمعہ 16 اکتوبر )اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے قدرتی آفات سے مکانات کو سالانہ 228ارب ڈالر کے نقصان کے پیش نظر محفوظ اور آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی رہائش گاہوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا ہے۔قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات کے باعث محفوظ مکانات کی تعمیر حکومتوں، تعمیراتی اداروں، انجینئرز اور مقامی آبادیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ کے شعبہ برائے تخفیف خطرات و آفات کے مطابق قدرتی آفات سے مکانات کو پہنچنے والا نقصان سمندری طوفانوں، سیلاب، سونامی اور زلزلوں سے ہونے والے براہِ راست نقصانات کا 43فیصد ہے۔ادارے کی ترجمان جینیٹ ایلس ورتھ نے کہا کہ آفات سے ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے مضبوط مکانات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار خاندان ضروری ہیں۔

قدرتی آفات سے مکانات کو سالانہ 228 ارب ڈالر کا نقصان، گوتریش

عالمی رسک پول 2026کے مطابق آفات سے متعلق پیشگی انتباہ ملنے پر صرف 27فیصد ایسے افراد نے عملی اقدام کیا جن کے پاس ہنگامی منصوبہ نہیں تھا جبکہ منصوبہ بندی اور اپنی صلاحیت پر اعتماد رکھنے والوں میں یہ شرح 83فیصد رہی۔عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم)کے مطابق ادارے نے 2025میں 39ممالک کی تقریباً 1,200برادریوں میں 14 لاکھ افراد کو قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے کے پروگراموں کے تحت معاونت فراہم کی جبکہ 12لاکھ سے زائد افراد تک پیشگی انتباہی نظام کی رسائی بڑھانے میں بھی مدد دی۔آئی او ایم کی عہدیدار ماریا موئٹا نے کہا کہ آفت گزرنے کے بعد بھی متاثرہ افراد کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں بلکہ انہیں گھروں کی بحالی، روزگار کی بحالی اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

 بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 27 نئی بسیں پہنچ گئیں، تعداد 296 ہوگئی

انہوں نے نیپال، وینزویلا اور کولمبیا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی اور درست معلومات کی فراہمی بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ محفوظ مقامات پر تعمیرات، مضبوط تعمیراتی معیار پر عملدرآمد، موجودہ مکانات کی بہتری، پیشگی انتباہی نظام اور مقامی سطح پر تیاری کے لیے مستقل سرمایہ کاری یقینی بنائی جائے۔

نجی سکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم، 15 دن میں رپورٹ طلب

 

بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی نے ایمرجنسی کیخلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

پچھلی پوسٹ
 بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 27 نئی بسیں پہنچ گئیں، تعداد 296 ہوگئی