پشاور کے علاقے دیر کالونی، کالج روڈ پر واقع نجی اسکول الخیر اسکول سسٹم کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں شہدا کی تعداد 30 ہوگئی، جبکہ 52 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حادثے کے بعد اسکول پرنسپل کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا عمل جاری ہے۔ ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے مطابق ہسپتال میں 20 بچوں، 6 بچیوں اور 2 خواتین اساتذہ سمیت 28 افراد کی لاشیں لائی گئیں، جن میں سے 27 لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ایک بچے کا تعلق باجوڑ سے ہے، جس کی میت ورثا کی آمد کے بعد حوالے کی جائے گی۔ دوسری جانب ترجمان نصیر اللہ بابر ہسپتال کے مطابق وہاں بھی 2 بچیوں کی لاشیں لائی گئیں، جس کے بعد سانحے میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 30 ہوگئی۔ ڈاکٹر ابراہیم کے مطابق نصیر اللہ بابر ہسپتال میں 32 معمولی زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
حادثے کی پہلی اطلاع صبح 8 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی

ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان کے مطابق اسکول حادثے کی پہلی اطلاع صبح 8 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی، جبکہ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او صبح 9 بجے جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے۔ فرحان خان نے بتایا کہ حادثے کے وقت اسکول کی کلاسوں میں 110 بچے زیرِ تعلیم تھے۔ ملبے تلے دبنے کے باعث بچوں کی اموات ہوئیں، جبکہ واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں میں پولیس، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد، الخدمت فاؤنڈیشن اور ریڈ کریسنٹ نے بھی ریسکیو آپریشن میں مدد فراہم کی۔ حادثے کے بعد زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
وہ مسلمان جنہوں نے میت جلانے کی وصیت کی
ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق اسکول پرنسپل کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کی عمارت کے این او سی، معائنے، تعمیراتی معیار اور حفاظتی انتظامات سے متعلق تحقیقات کی جائیں گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کی تعمیر اور استعمال میں متعلقہ ضوابط پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔ دیر کالونی میں پیش آنے والے اس افسوسناک سانحے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی جدائی پر غمزدہ ہیں، جبکہ واقعے کے بعد تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور تعمیراتی معیار سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
عمران خان سٹیڈیم کا نام دوبارہ ارباب نیاز سٹیڈیم رکھنے پر غور





