صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی، کالج روڈ پر واقع نجی اسکول الخیر سکول سسٹم کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 29 ہوگئی، جن میں 21 بچے، 6 بچیاں اور 2 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثے کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اسکول مالک گرفتار
خیبرپختونخوا پولیس کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے مطابق اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ واقعہ 15 اکتوبر 2026 کو صبح 8 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے امدادی سرگرمیوں اور واقعے سے متعلق کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آئی جی پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ آئی جی پی نے سی سی پی او پشاور کو امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو فوری اور محفوظ انداز میں نکالنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے چیف ٹریفک آفیسر پشاور کو ایمبولینسز کی بلا تعطل آمدورفت یقینی بنانے کے لیے گرین کوریڈور قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں کی جانب جانے والے تمام راستوں پر ٹریفک کی روانی ہر صورت برقرار رکھی جائے۔ آئی جی پی نے ایس ایس پی آپریشنز اور پولیس ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی۔ ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے دیر کالونی اسکول حادثے میں بچوں اور خواتین اساتذہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ معصوم بچوں اور خاتون ٹیچر کی شہادت انتہائی المناک سانحہ ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مزید بچے ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، اس لیے ریسکیو کارروائیوں میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ملبہ ہٹانے کے عمل کو تیز کیا جائے اور قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور تعمیراتی معیار پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔
اے این پی کے صوبائی صدر نے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندانوں کو صبر و ہمت عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔ حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں اور اساتذہ کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت متعلقہ طبی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کے خدشے کے باعث ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ حکام کی جانب سے امدادی کارروائیوں اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔





