پشاور: صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے بیوروکریسی اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے بعد اب قانونی و عدلیتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر دی ہے۔ صوبائی محکمہ قانون کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل آفس کے کل 57 افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ محکمہ قانون کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جن عہدیداروں کو ہٹایا گیا ہے ان میں درج ذیل شامل ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل (26 افسران): ان میں نعمان الحق کاکاخیل، عقیل حسین، عامر زیب، شاہ فیصل الیاس (جنہوں نے گزشتہ روز اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دیا تھا)، اور دیگر 22 افسران شامل ہیں۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل (31 افسران): تسکین الدین خٹک، جاوید خان، حمیرا گل، اور یاسر خالد سمیت کل 31 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (4 افسران): اس کے علاوہ زاہد یوسف قریشی اور فرید اللہ کنڈی سمیت 4 ایڈووکیٹ آن ریکارڈ بھی برطرف کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔
علی امین سہیل آفریدی پر برہم، بکائو مال کہنے پر آپے سے باہر
یاد رہے کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی تھی۔ اس کے فوری بعد وفاقی حکومت نے درج ذیل اہم اقدامات اٹھائے ہیں: نئی تقرری اور مشاورتی کونسل: ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے ایک 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ حساس اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔ فوج کی تعیناتی: آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے صوبے میں پاک فوج کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔ سیاسی ردعمل: وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز امن و امان کی ابتر صورتحال اور دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکامی کو قرار دیا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف اور جے یو آئی ف نے اس پورے اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے
مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، وزیراعلی کی شرائط رکاوٹ بنیں، طلال چوہدری
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
سوال 1: خیبرپختونخوا میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے کتنے افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا؟
جواب: میڈیا رپورٹس کے مطابق 57 افسران کو ہٹایا گیا۔ تاہم چار ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی تعداد الگ شمار ہونے یا مجموعی تعداد میں شامل ہونے کی تصدیق ضروری ہے۔
سوال 2: کن عہدوں پر تعینات افسران کو ہٹایا گیا؟
جواب: رپورٹس میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز سمیت ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے افسران کا ذکر ہے۔
سوال 3: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کب نافذ ہوا؟
جواب: سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کا اعلان 11 اکتوبر 2026 کو کیا گیا۔
پشاور مکمل سیل، کنٹینرز لگا کر راستے بند کردیئے گئے، تعلیمی ادارے بھی بند





