صوابی میں رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عبد الکریم خان تور ڈھیر کے گھر اور حجرے پر نامعلوم نقاب پوش افراد نے فائرنگ کردی، جبکہ واقعے کے دوران ان کے بھائی عبدالناصر اور تین سیکیورٹی گارڈز کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت ایم پی اے عبد الکریم خان تور ڈھیر موقع پر موجود نہیں تھے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے رات گئے ایم پی اے کے گھر اور حجرے کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے وہاں موجود ایم پی اے کے گنرز باچا خان، غنی رحمان اور سردار علی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، وزیراعلی کی شرائط رکاوٹ بنیں، طلال چوہدری
پولیس کا کہنا ہے کہ ایم پی اے کے بھائی عبدالناصر کو بھی مبینہ طور پر ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اغوا کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی چھوٹا لاہور فضل شیر خان پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ایم پی اے کے گھر اور حجرے میں موجود چار گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ حملہ آوروں نے موقع پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی توڑ دیا۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے واقعے کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ تاحال واقعے کی ذمہ داری کسی گروہ یا فرد نے قبول نہیں کی۔ نوٹ: اغوا کے حوالے سے بعض رپورٹس میں اسے ابتدائی طور پر ’’مبینہ اغوا‘‘ قرار دیا گیا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے تین سیکیورٹی گارڈز اور ایم پی اے کے بھائی عبدالناصر کو نقاب پوش افراد کے ساتھ لے جانے کی تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ناچنے والے گھوڑے میدان میں نہیں دوڑتے، فیصل کنڈی کا علی امین پر طنز
خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس، سہیل آفریدی گورنر فیصل کنڈی اور وفاقی پالیسیوں پر برہم

