
تحریر : عمرحیات عمر
رات کا وقت تھا۔ ہر طرف خاموشی اور سکون کا راج تھا۔ کبھی کبھار دور سے کتوں کے بھونکنے کی آواز آتی اور پھر خاموشی چھا جاتی۔
اچانک دھڑ دھڑ دھڑ!
فائرنگ کی آواز سے رات کا سکون چکنا چور ہو گیا۔ چند لمحوں میں گلی میں شور برپا ہوگیا۔ گھروں کے دروازے کھلنے لگے اور لوگ گھبرا کر باہر نکل آئے۔
سلیم گہری نیند سو رہا تھا۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ ساتھ ہی اس کی بیوی سلمیٰ بھی جاگ گئی۔
’’یہ گولیوں کی آواز کہاں سے آئی ہے؟ میرا تو دل گھبرا رہا ہے ‘ سلمیٰ نے پریشانی سے کہا۔
سلیم نے گھبرا کر جواب دیا ’’اللہ تعالیٰ خیر کرے ، آواز تو بہت قریب سے آئی ہے۔‘‘
ابھی دونوں بات ہی کر رہے تھے کہ گلی سے رونے اور چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔
سلیم فوراً بستر سے اٹھا اور کھڑکی کی طرف لپکا۔ کھڑکی کھولی تو سامنے نئے ہمسائے مراد کے گھر سے رونے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔
’’کیا ہوا؟ یہ آوازیں کہاں سے آ رہی ہیں؟‘‘ سلمیٰ نے پوچھا۔
سلیم نے افسردہ لہجے میں کہا ’’مراد کے گھر سے‘‘
یہ کہتے ہی وہ گھر سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد سلیم واپس آیا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔
سلمیٰ فوراً آگے بڑھی۔ ’’کیا ہوا؟ خیریت تو ہے؟‘‘
سلیم نے بھاری آواز میں کہا،’’مراد کے بیٹے عامر کو کسی نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔‘‘
’’ہائے اللہ ، ‘ سلمیٰ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ’’کس نے کیا؟ کیوں کیا؟‘‘
’’کچھ معلوم نہیں۔ پولیس کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ مراد اس وقت شدید صدمے میں ہے۔ باقی باتیں صبح ہی معلوم ہوں گی۔‘‘
سلمیٰ نے کہا ’’کیا میں مراد کے گھر جاؤں؟‘‘
’’ابھی نہیں ، تم صبح چلی جانا، میں مراد کے ساتھ رہتا ہوں جنازے اور دوسرے معاملات میں اس کا ہاتھ بٹانا ضروری ہے۔‘‘
سلیم یہ کہہ کر دوبارہ باہر نکل گیا، جبکہ سلمیٰ نے دروازہ بند کیا اور سونے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
مراد پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ اس کا جوان بیٹا عامر، جو ابھی زندگی کی کئی منزلیں طے کرنا چاہتا تھا، اچانک موت کی وادی میں جا چکا تھا۔
رات بھر گلی میں سسکیوں اور آہوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ چند گھنٹے پہلے ہنستا مسکراتا نوجوان اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا ہے۔
صبح عامر کا جنازہ اٹھا تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔
سلمیٰ کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ اس نے گھر واپس آ کر سلیم سے کہا ’’مراد کی بیوی کو ہسپتال لے جانا پڑا۔ وہ کئی بار بے ہوش ہوئیں۔ جوان بیٹے کا غم آخر ماں کیسے برداشت کرے؟‘‘
سلیم نے افسردگی سے کہا ’’مراد کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ بار بار عامر کو یاد کرکے رو رہا تھا۔‘
’قاتلوں کا کچھ پتا چلا؟‘
’’ابھی نہیں ، پولیس نے رپورٹ درج کر لی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔‘‘
اتنے میں ان کا بیٹا سلمان بھی وہاں آ گیا۔
سلمان نے کہا ’’ابو ، میں نے عامر کو کئی مرتبہ کالج سے واپسی پر گلی کے باہر کچھ لڑکوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ وہ اکثر موبائل پر انہیں کچھ دکھاتا رہتا تھا۔‘‘
سلیم خاموش ہوگیا۔ اس کے چہرے پر گہری سوچ کے آثار نمایاں تھے۔
سلمیٰ نے پوچھا ’’کیا ہوا؟ آپ اتنے پریشان کیوں ہو گئے ہیں؟‘‘
سلیم نے صرف اتنا کہا ’’کچھ نہیں۔‘‘
اور وہ خاموشی سے باہر نکل گیا۔
اگلے دن سلمان کالج کی کینٹین میں داخل ہوا تو کامران نے اسے دیکھ کر آواز دی۔
’’سلمان، کل کالج نہیں آئے تھے، خیریت تو تھی؟‘‘
سلمان کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، ’’کل رات عامر کو کسی نے قتل کر دیا۔‘‘
کامران کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
اسی دوران کلیم بھی وہاں آ کر بیٹھ گیا۔
کامران نے اس سے پوچھا ’’تمہیں عامر کے بارے میں پتا چلا؟‘‘
کلیم نے سر ہلایا۔ ’’ہاں ، رات ہی خبر مل گئی تھی۔ بہت افسوس ہوا۔‘‘
پھر وہ کچھ دیر خاموش رہا اور بولا’’لیکن یہ واقعہ اچانک نہیں ہوا۔‘‘
سلمان اور کامران چونک گئے۔
’’کیا مطلب؟‘‘
کلیم نے دھیمی آواز میں کہا ’’تمہیں یاد ہے، پچھلے ماہ گلاب کی بہن کی شادی تھی؟‘‘
کامران نے کہا ’’ہاں، گلاب تو عامر کا دوست تھا۔‘‘
’’وہی، عامر بھی اس شادی میں گیا تھا اور وہاں اس نے ایک لڑکی کی ویڈیو موبائل سے بنا لی۔ وہ لڑکی گلاب کی کزن تھی۔‘‘
سلمان نے حیرت سے پوچھا ’’پھر؟‘‘
’’شادی کے بعد عامر نے وہ ویڈیو اپنے چند دوستوں کو دکھائی۔ بات گلاب تک پہنچی تو اس نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اسی معاملے نے دشمنی کی شکل اختیار کر لی۔‘‘
کلیم نے افسوس سے کہا’’لیکن کسی کی ویڈیو بنانا یا دکھانا غلط تھا، اور اس غلطی کا جواب قتل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ ایک غلطی نے دوسری سنگین غلطی کو جنم دیا اور ایک گھر ہمیشہ کے لیے اجڑ گیا۔‘‘
سلمان خاموش ہوگیا۔
کامران نے کہا ’’واقعی، موبائل آج سہولت بھی ہے اور آزمائش بھی۔‘‘
سلمان نے گہری سانس لی۔ ’’اگر عامر کسی کی اجازت کے بغیر ویڈیو نہ بناتا، اسے دوستوں میں نہ دکھاتا اور بات بڑوں تک پہنچ کر بروقت حل ہو جاتی تو شاید معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔‘‘
کلیم نے کہا ’’اور اگر گلاب کو اعتراض تھا تو اسے قانون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ غصے میں کسی کی جان لے لینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔‘‘
تینوں دوست خاموش بیٹھے رہے۔
شام کو سلمان نے گھر آ کر اپنے والد سلیم سے ساری بات بیان کی۔
سلیم نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا’’بیٹا ، اس واقعے سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں۔ شادی ہو، تقریب ہو یا کوئی عام جگہ، کسی کی اجازت کے بغیر اس کی ویڈیو بنانا اور اسے دوسروں تک پہنچانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ موبائل ہمارے ہاتھ میں ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسروں کی عزت اور نجی زندگی کو نظر انداز کر دیں۔‘‘
سلمان نے کہا ’’اور غصہ بھی انسان کو تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔‘‘
سلیم نے سر ہلایا۔
’’بالکل ، یاد رکھو، کسی کی غلطی ہمیں جرم کرنے کا حق نہیں دیتی ، نہ غیر مناسب ویڈیو بنانا درست ہے نہ اسے پھیلانا اور نہ ہی اس کے جواب میں تشدد کرنا، ہر مسئلے کا حل قانون، سمجھ داری اور بروقت گفتگو میں ہے۔‘‘
سلمان نے موبائل ہاتھ میں لیا، کچھ لمحے اسے دیکھا اور پھر بولا’’اب سمجھ آیا کہ موبائل صرف ایک آلہ نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے۔‘‘
سلیم نے کہا،’’اور یہی ذمہ داری ہمیں اپنی اور دوسروں کی عزت، جان اور سکون کی حفاظت کرنا سکھاتی ہے۔‘‘
گھر میں خاموشی چھا گئی۔ باہر رات پھر اتر رہی تھی، مگر اس گھر کے اندر ایک سبق روشن ہو چکا تھ، موبائل کی ایک لمحے کی بے احتیاطی زندگی بھر کا پچھتاوا بن سکتی ہے، اس لیے ٹیکنالوجی استعمال کریں،
مگر انسانیت، عزت اور قانون کی حدود میں رہ کر۔

