زینب بیمار تھی۔ وہ صرف 11 برس کی تھی۔ زینب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کی بیٹی ہیں۔ مئی 2023 کے بعد شوکت یوسفزئی روپوش تھے۔ تقریباً ڈھائی ماہ تک وہ اپنی سے نہیں ملے۔ گھر سے ہفتے میں ایک مرتبہ فون آتا اور بتایا جاتا کہ زینب بیمار ہے اور تکلیف میں ہے۔ ابتدا میں شوکت یوسفزئی اسے عام بخار سمجھتے رہے اور فون پر ادویات تجویز کرتے رہے لیکن جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ کرایا گیا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ زینب کا ایک گردہ ناکارہ ہو چکا ہے جبکہ ڈاکٹرز دوسرے گردے کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے بزرگ والد کی صحت کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ یہ واقعہ شوکت یوسفزئی کی سیاسی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ ایک ایسی سیاسی جماعت کے کارکن تھے جس کے لیے وہ تقریباً اپنی پوری سیاسی زندگی وقف کر چکے تو دوسری طرف 9 مئی کے بعد کا ایسا دور تھا جس میں انہیں روپوش رہنا پڑا اور اسی دوران ان کی کم عمر بیٹی شدید بیمار ہوئی لیکن اس سب کے باوجود وہ اپنی پارٹی کے ساتھ رہے۔۔
سہیل آفریدی کے سر پر چار تلواریں لٹکنے لگیں، گھر جانا طے
شوکت یوسفزئی کا سیاسی سفر پاکستان تحریک انصاف کے تقریباً ابتدائی دور سے شروع ہوا تھا۔ وہ صحافی تھے، خیبر یونین آف جرنلسٹس کے تین مرتبہ صدر منتخب ہوئے، سرخاب اخبار کے چیف ایڈیٹر رہے، پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری رہے، عمران خان کے سیاسی مشیر اور پارٹی کے میڈیا ایڈوائزر بھی رہے۔ 2013 میں وہ پشاور سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبائی کابینہ میں وزیر صحت بنے۔ 2018 میں وہ شانگلہ سے دوبارہ صوبائی اسمبلی پہنچے۔ یہ 1996 سے ہی عمران خان کے ساتھ ہیں البتہ کئی بار انہیں مایوسی بھی ہوئی۔ 2013 کے بعد جب وہ صوبائی کابینہ کا حصہ بنے تو 2014 میں وزرا کی کارکردگی اور بعض الزامات پر اختلافات پیدا ہوئے۔ پی ٹی آئی کے اندر ایک گروپ بعض وزرا کے خلاف متحرک ہوئے۔ اسی ماحول میں عمران خان نے شوکت یوسفزئی کو صوبائی کابینہ سے ہٹا دیا۔ یوں وزارت چلی گئی لیکن شوکت یوسفزئی پارٹی کے ساتھ ہی رہے۔ شوکت یوسفزئی نے اس وقت عمران خان کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی دیا کہ وزارت ہی پارٹی کی خدمت کا واحد راستہ نہیں اور وہ عہدے سے زیادہ پارٹی کو اہمیت دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطالبات جائز، گورنر راج گلے پڑ جائیگا، حافظ نعیم
2018 کے عام انتخابات میں شوکت یوسفزئی شانگلہ سے دوبارہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کے ماحول میں شوکت یوسفزئی بھی روپوش رہے۔ اسی دوران، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، ان کی گیارہ سالہ بیٹی زینب شدید بیمار ہوئی اور ان کے مطابق ایک گردہ ناکارہ ہوگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہآج شوکت یوسفزئی اپنی پارٹی وفاداری پر سوال اٹھنے پر جذباتی ہوئے۔ شوکت یوسفزئی اس وقت پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات ہیں۔ انہوں نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر قیادت کو خط لکھ کر 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو فوری طور پر ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ ان کے مؤقف کے مطابق موجودہ سکیورٹی صورتحال میں احتجاج کے دوران کارکنوں کی جانوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں سفر اور احتجاج کے لیے نکلنا مناسب نہیں۔۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب د۔۔ ہشت گردی کے خطرات موجود ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اس صورتحال کو صوبائی حکومت کے خلاف کسی اقدام کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تحریک انصاف کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی
لیکن اس خط پر ردعمل سخت آیا۔ ان پر شک کیا گیا۔ ان کی ٹرولنگ شروع ہوئی۔ حتیٰ کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر شوکت یوسفزئی کا خط انہیں ملا تو وہ اسے ڈسٹ بن میں پھینک دیں گے اور 4 اکتوبر کا مارچ ہر صورت ہوگا۔ یہ انتہائی احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان تھا۔ اتنے بڑے عہدے پر رہتے ہوئے پارٹی کے سینئیر رہنماء کے بارے میں ایسا بیان دینا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ اور کچھ نہیں تو سہیل آفریدی بتا دیتے کہ انہیں خط نہیں ملا جب ملے گا تو بتا دیں گے لیکن نہیں آج ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی اس وقت آبدیدہ ہوگئے جب ان سے اپنے خط اور اس کے بعد ہونے والی تنقید کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے سینئر رکن کی حیثیت سے صرف ایک خدشہ سامنے رکھ رہے تھے۔ ان کے مطابق انہیں اس بات کا دکھ ہوا کہ ان کی نیت اور وفاداری پر سوال اٹھایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی کے ہاتھ بک گئے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا سہیل آفریدی ان کے چھوٹے بھائی ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ سے ایسے ردعمل کی توقع نہیں تھی۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ مختلف آپشنز زیرغور
آج کی گفتگو میں شوکت یوسفزئی بار بار اپنے ماضی کی طرف لوٹتے نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے بعد جو لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ رہے، انہوں نے سخت وقت دیکھا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف استعمال ہونے والی زبان پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ‘میرے پارٹی چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا’ یہ ایک ایسے شخص کا جذباتی ردعمل تھا جو تقریباً تین دہائیوں سے ایک ہی سیاسی جماعت کے ساتھ کھڑا ہے، جو عمران خان کا سیاسی مشیر رہا، پارٹی کی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتا رہا، اسمبلی پہنچا، وزیر بنا، پھر اسی قیادت کے فیصلے سے وزارت سے الگ ہوا لیکن پارٹی نہیں چھوڑی اور 9 مئی کے بعد کے مشکل دور میں بھی اپنی وابستگی برقرار رکھی۔۔ کچھ تو لحاظ رکھنا چاہیے۔۔۔ شوکت یوسفزئی پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن کچھ تو طریقہ ہونا چاہیے۔۔۔ جب پارٹی کے بڑے رہنماء ہی کھلے عام عامیانہ گفتگو کریں گے تو کارکنان سے کیا امید؟
خیبرپختونخوا کے شہری وزیراعلیٰ کی کارکردگی سے غیر مطمئن، سہیل آفریدی پر شدید تنقید
حکومت کو تھکا تھکا کر مارنا ہماری حکمت عملی ہے، شوکت یوسفزئی

