پاکستان سے ٹیکسٹائل خام مال اور درمیانی درجے کی مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں 3.4 فیصد کم ہو کر 3.03 ارب ڈالر رہ گئیں جس سے ٹیکسٹائل صنعت کے ابتدائی پیداواری شعبے میں کئی سال سے جاری کمزوری کا رجحان مزید بڑھ گیا۔ کپاس، مصنوعی ریشوں اور کپڑے کی کئی اقسام کی برآمدی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی سالانہ برآمدی کارکردگی رپورٹ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025-26 کے مطابق ٹیکسٹائل کی اشیا کے چیپٹر 50 سے 60 کے تحت برآمدات مالی سال 2024-25 کے 3.133 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں 3.026 ارب ڈالر رہ گئیں۔کپاس ابتدائی ٹیکسٹائل برآمدات میں سب سے بڑا حصہ رہی اور خام مال و درمیانی مصنوعات کی برآمدات میں اس کا حصہ 80 فیصد سے زیادہ رہا۔
سرحد چیمبر کی سینئر قیادت کا سبکدوش ہونیوالی کابینہ کی خدمات کو خراج تحسین
کپاس کی برآمدات 1.5 فیصد کم ہو کر 2.486 ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 2.524 ارب ڈالر تھیں۔کئی دیگر شعبوں میں بھی کمزوری کا رجحان برقرار رہا۔ مصنوعی بنیادی ریشوں کی برآمدات 8.8 فیصد کم ہو کر 337.3 ملین ڈالر جبکہ مصنوعی باریک ریشوں کی برآمدات 26.2 فیصد کمی کے بعد 50.1 ملین ڈالر رہ گئیں۔قالین اور دیگر ٹیکسٹائل فرش پوش اشیا کی برآمدات 19.8 فیصد کم ہو کر 45.8 ملین ڈالر، جبکہ بنے ہوئے یا کروشیے کے کپڑے کی برآمدات 20.7 فیصد کمی سے 35.7 ملین ڈالر رہ گئیں۔ دیگر نباتاتی ٹیکسٹائل ریشوں کی برآمدات میں 34.2 فیصد کمی ہوئی جو رپورٹ میں درج بڑی ابتدائی ٹیکسٹائل مصنوعات میں سب سے زیادہ کمی ہے۔صرف چند اقسام کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ خصوصی طور پر بنے ہوئے کپڑے، گچھے دار ٹیکسٹائل کپڑے، لیس اور دیواروں پر سجانے والے ٹیکسٹائل کپڑوں کی برآمدات 15.3 فیصد بڑھ کر 46.3 ملین ڈالر ہوگئیں۔ اون اور دیگر حیوانی بالوں سے بنی مصنوعات کی برآمدات بھی 10.8 فیصد اضافے سے 2.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم مجموعی برآمدات میں ان کا حصہ بہت کم رہا۔ابتدائی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں کمی کے برعکس پاکستان کی قدر میں اضافہ کرنے والی ٹیکسٹائل صنعت کی کارکردگی بہتر رہی۔
مشینری کی درآمدات میں اضافہ، پاکستان کی درآمدی ساخت میں بہتری
قدر میں اضافہ کرنے والے ملبوسات اور گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات 1.1 فیصد بڑھ کر 14.98 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ مجموعی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں ان کا حصہ 83.2 فیصد تک پہنچ گیا جو مالی سال 2021-22 میں 77 فیصد تھا۔ اب خام مال اور درمیانی مصنوعات ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات کا صرف 16.8 فیصد ہیں۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے مقامی کپاس کی پیداوار کی بنیاد میں مسائل کو ابتدائی ٹیکسٹائل شعبے کے لیے ایک بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔رپورٹ میں شامل صنعتی معلومات کے مطابق بعض برآمد کنندگان ریشے کی قسم، نمی کی مقدار اور دھاگے کی گنتی سے متعلق سخت معیار پورا کرنے کے لیے مقامی طور پر پیدا ہونے والی کپاس کی جگہ درآمد شدہ کپاس استعمال کر رہے ہیں۔ صنعت سے حاصل ہونے والی معلومات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض کمپنیاں تقریبا 50 فیصد درآمد شدہ کپاس کے مقابلے میں صرف 35 سے 40 فیصد مقامی کپاس استعمال کر رہی ہیں جس سے مقامی کپاس کے معیار سے متعلق خدشات ظاہر ہوتے ہیں۔ابتدائی ٹیکسٹائل پیداوار میں یہ کمزوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علاقائی منڈیوں میں پاکستانی خام مال کی طلب اب بھی اہم ہے۔چین نے مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان سے 644 ملین ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات درآمد کیں جن میں زیادہ تر حصہ سوتی دھاگے کا تھا۔
خلیجی بحران سے پاکستان کی لیبر مارکیٹ کو دوہرا دھچکا لگنے کا خطرہ
سوتی دھاگے کی دو بڑی اقسام کی برآمدات میں بالترتیب 33.2 فیصد اور 20.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بغیر بلیچ کیے ہوئے سوتی بنے ہوئے کپڑے کی ایک قسم کی برآمدات دگنی سے بھی زیادہ ہوگئیں۔پاکستان کی ابتدائی ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایک اور بڑی منڈی بنگلہ دیش نے سال کے دوران 620 ملین ڈالر کی مصنوعات درآمد کیں جن میں بنیادی طور پر سوتی دھاگا، ڈینم اور بنے ہوئے کپڑے شامل تھے۔ صرف سوتی ڈینم سے 334.9 ملین ڈالر حاصل ہوئے، جو 6 فیصد اضافہ ہے۔کونسل نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی پوری پیداواری چین کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مقامی کپاس کی بنیاد کو مضبوط بنانا ضروری ہوگا۔ کونسل نے اپنی پالیسی سفارشات میں بیج کے معیار، کسانوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن اور پیداوار کی قابلِ سراغ شناخت سمیت ایک مربوط قومی کپاس حکمت عملی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔رپورٹ میں مقامی کپاس کی پیداوار میں کمی کے ساتھ توانائی کی لاگت، مالی معاونت کی فراہمی میں خلا اور شپنگ کے نرخوں میں اتار چڑھا کو بھی ان بنیادی مسائل میں شامل کیا گیا ہے جن کا پاکستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو مالی سال 2026-27 میں داخل ہوتے وقت سامنا ہے۔

