Skip to main contentSkip to footer

لانگ مارچ ملتوی؟ اہم اعلان آج ہوگا

لانگ مارچ ملتوی؟ اہم اعلان آج ہوگا

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بیک ڈور رابطوں میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں لانگ مارچ کے حوالے سے درمیانی راستہ نکالنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت نے لانگ مارچ موخر کرنے کی شرط عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہوگی۔ بی این این واچ  کے باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر پیدا ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں جانب سے رابطوں میں پیشرفت ہوئی ہے اور موجودہ صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کے لیے درمیانی راستہ نکالنے پر غور کیا جا رہا ہے۔  ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز ہونیوالے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی لانگ مارچ ملتوی کرکے اکتوبر کے پہلے ہفتے تک لے جانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں جس کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے آج سہ پہر تین بجے وزیراعلیٰ ہائوس میں پریس کانفرنس کے دوران اہم اعلان متوقع ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج اور لانگ مارچ کو یا ملتوی یا صرف صوابی تک محدود رکھنے کا اعلان کیا جائےگا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کے ساتھ رابطے جاری ہیں، اب سے کچھ گھنٹے قبل بھی حکومت کے ساتھ رابطہ ہوا ہے۔ ملک کی ایک بڑی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہے اس لیے بات چیت ضرور ہونی چاہیے۔

خیبرپختونخوا کے53 مقامات پر پرندوں کے شکار پر پابندی عائد

انہوں نے کہا کہ میں حکومت کو یہ کہوں گا کہ یہ وقت نہیں ہے کہ آپ نیٹ لانچر کا استعمال کریں، سیاسی لوگوں کے خلاف نیٹ لانچر استعمال نہیں کرتے، ان کو گلے لگاتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں، ان کے تحفظات کو حل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے نکل رہے ہیں، ہم انصاف کی آواز اٹھا رہے ہیں، ہم انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہمیں نہیں سنا گیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نیٹ لانچر کے استعمال کی بجائے گلے لگائے اور عوام کو گلے لگائے، عوام کو انصاف دیں، ان کی باتوں کو سنیں، بیرسٹر گوہر نے حکومت کو پیش کشکی کہ آپ 2 قدم پیچھے ہٹیں، ہم 10 قدم پیچھے ہٹیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی بات بنے جس میں عوام کے مسائل کا ہم حل ڈھونڈیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی وفاقی سطح پر اہم شخصیات سے ملاقاتیں اور رابطے ہوئے ہیں، جن میں لانگ مارچ اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر رسمی رابطوں کے دوران اس تجویز پر غور ہوا کہ لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی قیادت انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ حد عبور نہ کرے اور جہاں انہیں روکا جائے، وہیں پرامن طور پر احتجاج جاری رکھا جائے۔

پنجاب بھر میں دفعہ 144نافذ، پشاور موٹروے ایم ون بند

ذرائع کے مطابق اس معاملے میں کسی حد تک اتفاق رائے بھی سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھا جائے اور کسی ایسی صورتحال سے گریز کیا جائے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران اس کے دورانیے اور اختتام کے طریقہ کار سے متعلق حتمی فیصلہ بھی اسی دوران مذاکرات اور باہمی رابطوں کے نتیجے میں سامنے آسکتا ہے۔سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر وفاقی حکومت نے بھی اپنی حکمت عملی طے کرلی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کو آئینی اور قانونی دائرے تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی امریکہ سے واپسی کے بعد اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی سے ملاقات متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات میں بنیادی طور پر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے 2 ارکان کی تقرری کے معاملے پر بات ہوگی۔حکومتی ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی رہائی کا معاملہ مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا جبکہ عمران خان کی مستقل طور پر نجی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر بھی حکومت بات چیت نہیں کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات آگے بڑھانا چاہتی ہے اور وفاق پر دبا ئوڈالنے کی صورت میں عمران خان سے متعلق کسی معاملے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

 

اسلام آباد میں زلزلہ برپا ہوچکا، یہ ہماری جیت ہے ، سہیل آفریدی

Next Post
پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ، سول سیکرٹریٹ سمیت اہم مقامات خالی
Previous Post
اسلام آباد میں زلزلہ برپا ہوچکا، یہ ہماری جیت ہے ، سہیل آفریدی