Skip to main contentSkip to footer

کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، سہولت کاروں کا سراغ مل گیا

کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، سہولت کاروں کا سراغ مل گیا

کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر خودکش دھماکہ اور مسلح حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں تفتیشی حکام کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حملہ میں مبینہ طور پر ملوث دہشت گرد نیٹ ورک، منصوبہ سازوں اور بعض سہولت کاروں کا سراغ لگا لیا ہے جبکہ متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات جاری ہیں۔تفتیشی حکام کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر دو دہشت گرد تنظیموں نے باہمی تعاون سے کی تھی جبکہ حملہ آوروں کا ایک اہم مقصد پولیس لائنز میں قائم سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ سے زیر حراست اپنے ساتھیوں کو چھڑانا تھا۔

سہیل آفریدی پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی، 9مئی کیس میں نامزد

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی سے قبل کوہاٹ کے مضافاتی علاقہ میں کئی روز قیام کیا اور مبینہ طور پر مقامی سہولت کاروں کی مدد سے ایک مکان میں رہائش اختیار کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مارکر متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔تفتیشی حکام کے مطابق چھاپے کے دوران اہم شواہد بھی اکٹھے کئے گئے ہیںجبکہ گرفتار افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے خودکش حملہ آور کے زیر استعمال گاڑی سے متعلق بھی اہم معلومات اور ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم گاڑی کی ملکیت، نقل و حرکت اور حملے سے قبل اس کے استعمال سمیت دیگر پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ مبینہ دہشت گردوں نے گزشتہ سال بھی کوہاٹ پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم کارروائی سے قبل بعض مشتبہ دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ موجودہ تحقیقات میں گزشتہ منصوبے اور 18 ستمبر کے حملے کے درمیان ممکنہ روابط کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے

افغان طالبان کی ڈرون دراندازی ناکام، پاکستانی حدود میں داخل

۔دریں اثنا، بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کی رپورٹ کے مطابق 18 ستمبر کو ہنگو روڈ پر واقع اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکا کیا گیا جس میں تقریباً 869 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔ رپورٹ کے مطابق دھماکے کے بعد مسلح حملہ آور اولڈ پولیس لائنز کے اندر واقع سپیشل برانچ بلاک میں داخل ہوگئے اور وہاں مورچے سنبھال لیے۔کلیئرنس آپریشن کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت سے غیر پھٹا ہوا دھماکا خیز مواد، دو آئی ای ڈیز اور ایک خودکش جیکٹ بھی برآمد ہوئی جس میں مزید چار آئی ای ڈیز نصب تھیں۔ حکام کے مطابق پولیس، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تمام آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کیا۔تفتیشی حکام کے مطابق حملے کے منصوبہ سازوں، مبینہ سہولت کاروں اور نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے جبکہ گرفتار مشتبہ افراد سے حاصل ہونے والی معلومات اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی جاری ہے۔

صوبائی وزیر فضل شکور کو کیوں اغوا کیا گیا؟ عدالت میں درخواست دائر

 

کوہاٹ پولیس لائن دھماکے میں 869 کلو بارود استعمال ہونے کا انکشاف

Next Post
تحریک انصاف کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی
Previous Post
خوشحال گڑھ پل پر بین الصوبائی شاہراہ بند، جنوبی اضلاع کا پنجاب سے رابطہ متاثر