پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے فوج و رینجرز کی تعیناتی کیلئے وقاق کو خط لکھ دیا ہے اور صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ ممکنہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز ڈائون گریڈ کرنے کی بھی درخواست کر دی،پشاور موٹر وے ایم ون رات 11 بجے سے تاحکم ثانی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی،نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ 23ستمبر سے 5 اکتوبر تک کے لیے کیا گیا ہے، عوامی مقامات پر ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر پابندی عائد ہے۔صوبائی محکمہ داخلہ نے عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کیا ہے؟ اہم نکات سامنے آگئے
نوٹیفکیشن کے مطابق لوگوں کو غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کے لیے اکسانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نمازِ جنازہ، تدفین، مساجد و دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہو گا، عوامی امن اور جان ومال کو لاحق سنگین خطرات کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کی گئی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر صوبے میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاق کو خط لکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات جاری ہیں اور پنجاب حکومت نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کیلئے وفاق کو خط لکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی ہے ، صوبائی حکومت نے راولپنڈی میں بھی فوج کی تعیناتی بھی مانگی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعیناتی کی درخواست کی ہے، خط میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر تک مانگی گئی ہے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
افغان طالبان کی ڈرون دراندازی ناکام، پاکستانی حدود میں داخل
دریں اثناء پاکستان تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز ڈان گریڈ کرنے کی درخواست کر دی۔ذرائع کے مطابق ضلع اٹک، راولپنڈی کے مخصوص علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ بندش کی درخواست کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش اور سگنل کمزور کرنے کی درخواست کی گئی۔پنجاب حکومت نے درخواست امن و امان کی متوقع صورتِ حال کے پیش نظر کی، خط میں سینٹرل پولیس آفس پنجاب لاہور کے خط کا حوالہ دیا گیا ہے۔ذرائع محکمہ داخلہ نے کہا کہ راولپنڈی میں مخصوص مقامات پر انٹرنیٹ جیمنگ کی درخواست کی گئی ہے، راولپنڈی میں براہمہ، بحتر، ٹیکسلا، واہ صدر اور چکری کے علاقے شامل ہیںادھر اسلام آباد میں ممکنہ سکیورٹی اقدامات کے پیش نظر موٹروے ایم ون بدھ کی رات سے اسلام آباد سے چھچھ انٹرچینج تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر نے کا بتایاگیا ہے ،ترجمان موٹروے پولیس نے موٹروے ایم ون کو بدھ شام سے اسلام آباد سے چھچھ انٹرچینج تک اور موٹروے ایم 14 ہکلہ سے کنڈل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر نے کا بتایاگیا جس کے بعد 23 ستمبر سے موٹروے ایم 2 پر لاہور سے بڑی اور کارگو گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق اسلام آباد جانے والی بڑی گاڑیاں جی ٹی روڈ کا متبادل راستہ اختیار کریں گی،موٹروے ایم 2 اور ایم 3 پرموجود گاڑیوں کو کالاشاہ کاکو سے جی ٹی روڈکی طرف موڑ دیا جائے گا۔ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق جی ٹی روڈ این 5 بدھ شام سے اٹک خورد کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ، پابندی کے دوران ڈرائیور متبادل راستے اور ٹریفک کی صورتحال سے متعلق موٹروے پولیس کی ہدایات پر عمل کریں۔

