پشاور: کوہاٹ کے پرانے پولیس لائنز میں 18 ستمبر کو ہونے والے دھماکے سے متعلق بم ڈسپوزل یونٹ نے تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے سنٹرل پولیس آفس ارسال کردی۔ رپورٹ کے مطابق بم ڈسپوزل یونٹ نے دھماکے کے مرکز کا تعین کرنے کے ساتھ دھماکا خیز مواد کی نوعیت اور مقدار کا بھی جائزہ لیا۔ دھماکے کے نتیجے میں بننے والے گڑھے کا ظاہری قطر 6.6 فٹ بائی 11 فٹ جبکہ گہرائی 4.6 فٹ ریکارڈ کی گئی۔
ڈاکٹر میاں سعید کو عہدے سے ہٹانے کیلئے کوششیں شروع
بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں مجموعی طور پر 869 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا، جبکہ انتہائی طاقتور دھماکا خیز مواد استعمال کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی بھی ابتدائی شناخت کرلی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپیشل برانچ کی عمارت کے اندر سے غیر پھٹا ہوا دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ گراؤنڈ فلور سے 2 آئی ای ڈیز جبکہ پہلی منزل سے ایک خودکش جیکٹ برآمد ہوئی، جس میں 4 آئی ای ڈیز نصب تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد حملہ آور پرانے پولیس لائنز کوہاٹ میں داخل ہوئے اور مسلح حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے اسپیشل برانچ بلاک میں مضبوط مورچہ بندی کی۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد علاقے کو محفوظ اور کنٹرولڈ قرار دے دیا گیا۔
کمزور پاسپورٹ کے باوجود بھی پاکستانی 30ممالک میں با آسانی جاسکتے ہیں
یاد رہے کہ جمعہ کےروز نماز جمعہ کے دوران 8 مسلح دہشتگردوں نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن پر حملہ کرکے 25 افراد کو شہید جبکہ 104 کوزخمی کردیا تھا ،پولیس ،پاک فوج اور سی ٹی ڈی کے مشترکہ آپریشن کے نتیجے مں تمام دہشتگرد جہنم واصل کردیئے گئے تھے
پولیس لائنز مسجد دھماکے میں شہداء کی تعداد 23 ہوگئی، 140 زخمی

