Skip to main contentSkip to footer

مکہ مکرمہ پر حملے، حوثی باغیوں کیخلاف بھرپور کارروائی کا اعلان

مکہ ڈرون

سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ عرب میڈیا رپورٹس ے مطابق سعودی فوجی اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ ڈرون کو مکہ کے گرد ممنوع فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی روک لیا گیا۔ سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ دونوں مقدس مساجد کا تحفظ سرخ لکیر ہے اور فوجی اتحاد حوثیوں کے خلاف ضروری اقدامات کرے گا۔سعودی اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے بیان میں کہا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2017 میں بھی مکہ پر بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل منگل و بدھ کی درمیانی رات کو بھی سعودی عرب کے شہروں جزان، ابہا اور خمیس مشیط میں حملے کے خطرات پر سائرن بج اٹھے تھے تاہم کچھ دیر بعد وارننگ واپس لے لی گئی تھی۔ دوسری جانب حوثی عہدیدار نے مکہ پر حملے کے سعودی دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں کے ایک عہدیدار نے سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حوثیوں نے مکہ کی جانب ڈرون داغا جسے مار گرایا گیا۔ حوثیوں کے زیر انتظام سبا نیوز ایجنسی نے محمد الفرح کا بیان جاری کیا ہے ۔محمد الفرح حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن ہیں۔ انھوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو کھلا جھوٹ قرار دیا ہے۔ دریں اثنا اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثی گروپ کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا، مقدس مقامات اور مساجد کی حرمت پامال کرنا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ مقدس مقامات، مساجد اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے

ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 68 لاکھ 69 ہزار 217 ہوگئی

جو اسلامی اقدار اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کے منافی ہے۔او آئی سی نے مقدس مقامات کی بے حرمتی کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ذمے داروں کے خلاف مث موثرکارروائی اور انہیں روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ادھر اقوام متحدہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ترجمان اقوام متحدہ کے مطابق سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں حوثی حملوں کے بعد صورتحال پر گہری تشویش ہے۔اقوام متحدہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کیا جائے اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری کشیدگی کے باعث پہلے سے موجود انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ المکرمہ پر ڈرون حملے کی گھناؤنی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت اوراسے ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسجدِ حرام، مکہ المکرمہ کے مقدس مقام پر ہونے والے بزدلانہ اور گھناؤنے ڈرون حملے کی کوشش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

ساڑھے 4ہزار سال قدیم عظیم اہرام مصر میں ریاضیاتی کوڈ پوشیدہ

انہوں نے لکھا کہ پاکستان کے عوام اس اشتعال انگیز اور افسوسناک اقدام پر دکھی اور شدید تشویش میں مبتلا ہیں، اس قابلِ مذمت اور ناقابلِ معافی کارروائی کے نتیجے میں ہمارے دلوں میں جو گہرا دکھ، کرب اور اضطراب پیدا ہوا ہے، اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ ہم سعودی مسلح افواج کی غیرمعمولی مستعدی، شجاعت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس خطرے کا مقابلہ کیا۔شہباز شریف نے کہاکہ میں ایک بار پھر تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید کشیدگی کے دہانے سے پیچھے ہٹنے کی اپیل کرتا ہوں، ہمارا خطہ پہلے ہی تنازعات کی بہت بھاری قیمت ادا کرچکا ہے، پائیدار امن کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کے تحفظ کیلئے پوری ثابت قدمی کے ساتھ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، یہ ایسا فریضہ ہے جسے ہر پاکستانی اپنے دل کے انتہائی قریب رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ المکرمہ پر مبینہ ڈرون حملے کی گھنائونی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل معافی قرار دیا

دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40سال بعد پگھل کر ختم ہوگیا

اور کہا کہ پاکستان کے عوام اس پر افسردہ اور مضطرب ہیں، حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسجدِ حرام، مکہ المکرمہ کے مقدس مقام پر ہونے والے بزدلانہ اور گھنائونے ڈرون حملے کی کوشش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس اشتعال انگیز اور افسوسناک اقدام پر دکھی اور شدید تشویش میں مبتلا ہیں، اس قابلِ مذمت اور ناقابلِ معافی کارروائی کے نتیجے میں ہمارے دلوں میں جو گہرا دکھ، کرب اور اضطراب پیدا ہوا ہے، اسے بیان کرنے کیلئے الفاظ ناکافی ہیں۔وزیراعظم کا کہنا ہے ہم سعودی مسلح افواج کی غیرمعمولی مستعدی، شجاعت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس خطرے کا مقابلہ کیا۔شہباز شریف کا کہنا ہے میں ایک بار پھر تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید کشیدگی کے دہانے سے پیچھے ہٹنے کی اپیل کرتا ہوں

امریکا میں 36لاکھ برس قدیم میگالوڈون شارک کا دانت دریافت

ہمارا خطہ پہلے ہی تنازعات کی بہت بھاری قیمت ادا کرچکا ہے، پائیدار امن کے حصول کے لئے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کے تحفظ کے لئے پوری ثابت قدمی کے ساتھ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، یہ ایسا فریضہ ہے جسے ہر پاکستانی اپنے دل کے انتہائی قریب رکھتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس نا قابلِ معافی اقدام پر محسوس کیے جانے والے غم اور دکھ کی شدت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ کسی حملے کا ردِعمل کیا ہو گا، مکہ معاہدے میں شامل ممالک لائحہ عمل طے کریں گے۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں، کسی بھی کارروائی کا فیصلہ ان تینوں ممالک نے کرنا ہے۔

ایران روسی تعاون سے سپرسونک کروز میزائل تیار کرنے لگا، رپورٹ

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپ دراصل یہ پوچھ رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت کیسے کارروائی کی جائے گی، دفاعی معاہدوں کی تفصیلات کبھی بھی عوامی سطح پر بیان نہیں کی جاتیں۔انہوں نے کہا کہ دفاع سے متعلق دوسرے معاہدے بھی ہیں، جن میں ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانیاں ہیں۔انہوںنے کہاکہ جیسا کہ لفظ سے بھی واضح ہے یہ دفاعی تعاون ہے، اس معاہدے میں کوئی جارحانہ پہلو نہیں ہے، باہمی دفاعی معاہدہ ایک دوسرے کیلئے معاون نوعیت کا ہے، ان تمام ممالک کے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے آزادانہ اور الگ تعلقات ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے بہت زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری دفاعی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں، کسی ملک کے خلاف ہمارے جارحانہ عزائم نہیں، ہم ناصرف دفاع کر سکتے ہیں بلکہ سزا بھی دے سکتے ہیں

ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔انہوںنے کہاکہ سیاسی مقصد ملک کی سیاسی قیادت طے کرتی ہے، فوج اور ریاست کے الگ الگ اہداف نہیں ہیں، پاکستان کے مقاصد اور خواہشات سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں کوئی مداخلت نہ ہو، طالبان حکومت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں درجنوں دہشت گرد تنظیموں کا ذکر ہے، ہمارا مؤقف ہے افغانستان کو دنیا کا دہشت گردی کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک رکن پر حملے کی صورت میں ردعمل کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی، پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تاریخی تعلقات کو مزید باضابطہ شکل دے رہا ہے، معاہدہ نہ صرف مسلم ممالک بلکہ علاقائی امن و سلامتی کیلئے بھی اہم ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کا واحد مقصد علاقائی امن اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے، پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، ایران امریکا کے ساتھ تعلقات پاکستان کو ثالثی کیلئے بہترین پوزیشن دیتے ہیں

پاکستان اس تنازع میں کوئی ذاتی یا اپنا مقصد نہیں رکھتا، پاکستان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ تنازع کو فضائی، زمینی یا بحری محاذوں پر حل کرنے کے بجائے اس کے پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے، تنازع کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، تمام فریقین کو پرامن اور مذاکراتی حل کی جانب بڑھنا چاہیے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ جو ممالک ثالثی کیلئے تیار ہیں انہیں غیر جانبدارانہ کردار جاری رکھنا چاہیے، مکہ دفاعی اتحاد میں نئے شراکت داروں کی شمولیت کی گنجائش ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے، ملک بھر میں روزانہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، رواں سال پاکستان میں 42 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے جا چکے ہیں، افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس وقت بھی جاری ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں سال 2 ہزار 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی شہری، فوجی، پولیس اہلکار جانیں قربان کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کا سمجھوتہ یا درمیانی راستہ اختیار نہیں کیا جائیگا۔

 

ایران جنگ میں امریکا کے 33ارب ڈالر سے زائد خرچ، درجنوں جیٹ اور ڈرونز تباہ

Next Post
پیٹرولیم ڈیلرز نے ریلیف سیکم پر پیٹرول دینے سے انکار کردیا
Previous Post
کوہاٹ روڈ پر پولیس چوکی دھماکے سے تباہ، اے ایس آئی زخمی