Skip to main contentSkip to footer

بھارتی پولیس اہلکار کے پاس برصغیر کی تاریخ کی عکاسی کرتا قدیم سکوں کا ذخیرہ

بھارتی پولیس اہلکار کے پاس برصغیر کی تاریخ کی عکاسی کرتا قدیم سکوں کا ذخیرہ

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل تھاپورم سریش ریڈی نے دو دہائیوں کے دوران قدیم سکوں کا ایسا نایاب ذخیرہ جمع کیا ہے جو برصغیر کی سیاسی، ثقافتی اور معاشی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق سریش ریڈی کے ذخیرے میں موریہ، ساتواہنا، مغل سلطنت اور برطانوی دور کے سونے، چاندی اور تانبے کے سکے شامل ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے مختلف ادوار کے ڈاک ٹکٹ بھی محفوظ کر رکھے ہیں۔ تروپتی شہر میں تعینات تھماپورم سریش ریڈی 1998 میں پولیس میں بھرتی ہوئے تھے

ستائیس ستمبر ملک کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا دن ہوگا ،سہیل آفریدی

لیکن انھیں بچپن ہی سے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا، چھٹی اور ساتویں جماعت کے دوران انہوں نے یہ شوق اپنایا اور پرانے سکے جمع کرنا شروع کیے۔ پولیس میں تعیناتی کے بعد سال 2005 میں تروپتی شہر میں تبادلے کے بعد انہوں نے دوبارہ اس شوق کو زندہ کیا، جیسے جیسے ان کا ذخیرہ بڑھتا گیا، ویسے ویسے قدیم سکوں کی تاریخ جاننے کا شوق بھی بڑھتا چلا گیا۔سریش ریڈی کے مطابق اگر ساتواہنا دور کا کوئی سکہ سمجھنا ہو تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے کس حکمران نے جاری کیا، وہ کس دھات کا بنا ہے، اس پر کیا تحریر اور علامات موجود ہیں، اس کے لیے لائبریریوں میں تحقیق، تاریخی کتابوں کا مطالعہ اور حقائق کی تصدیق کرنا پڑتی ہے، تب جا کر اصل سکہ تلاش کیا جاتا ہے۔قدیم سکوں سے یہ لگا صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کے مشکل دور میں ان کے لیے ذہنی سکون کا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔سریش ریڈی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا دونوں گردوں کے مسائل کے ساتھ پیدا ہوا جس کی دیکھ بھال کے لیے ان کی اہلیہ کو دہلی میں نیم فوجی ادارے کی ملازمت چھوڑنا پڑی

دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40سال بعد پگھل کر ختم ہوگیا

گھر کے مسائل اور ذہنی دبا کے دوران انسان کو کسی ایسے مشغلے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا ذہن مصروف رکھے، میرے لیے قدیم سکے جمع کرنا ہی ذہنی سکون کا ذریعہ بن گیا۔سریش ریڈی کے نزدیک کسی قدیم سکے کی اصل اہمیت اس کی قیمت یا قدامت میں نہیں بلکہ اس تاریخ میں ہے جو وہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جب میں کسی قدیم سکے کو دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں ماضی میں سفر کر رہا ہوں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نایاب ذخیرہ الماریوں تک محدود نہ رہے بلکہ عوام، خصوصا طلبہ کے لیے نمائش کا حصہ بنے تاکہ نئی نسل مختلف ادوار کے ان تاریخی نوادرات کو دیکھ کر اپنے ماضی اور ان سلطنتوں کے بارے میں جان سکے جنہوں نے برصغیر پر حکومت کی۔آج کے ڈیجیٹل دور میں جب تاریخ زیادہ تر موبائل اور کمپیوٹر کی سکرینوں پر پڑھی جاتی ہے، سریش ریڈی چھوٹے چھوٹے دھاتی سکوں کے ذریعے ماضی کو نئی نسل کے لیے زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

امریکا میں 36لاکھ برس قدیم میگالوڈون شارک کا دانت دریافت

Previous Post
گینگ ریپ کیس کے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک