Skip to main contentSkip to footer

شپنگ اخراجات میں اضافہ، پاکستانی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر

شپنگ اخراجات میں اضافہ، پاکستانی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر

اہم بین الاقوامی تجارتی راستوں پر پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے شپنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے جس سے ان کی مسابقتی صلاحیت پر دبا بڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر مال برداری کی شرحوں میں اضافہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جہازوں کی محدود گنجائش اور اہم سمندری تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث ہوا ہے۔ڈریوری کے عالمی کنٹینر انڈیکس کے مطابق 40 فٹ کے ایک کنٹینر کی اوسط شرح 11 جون کو 3,549 ڈالر تھی جو 20 اگست تک بڑھ کر 4,526 ڈالر ہوگئی، یعنی تقریبا 28 فیصد اضافہ ہوا۔پاکستانی برآمد کنندگان کو خدمات فراہم کرنے والے راستوں پر بھی اس اضافے کے اثرات نمایاں ہوئے ہیں۔ شپنگ کمپنی ہیپاگ لائیڈ نے جون، جولائی اور اگست کے دوران کراچی اور پورٹ قاسم سے یورپی ممالک کے لیے سمندری مال برداری کے بنیادی نرخوں میں مسلسل اضافہ کیا۔پاکستان سے شمالی یورپ جانے والی کھیپ کے لیے 15 جولائی سے شروع ہونے والی روانگیوں پر کمپنی کے اعلان کردہ بنیادی نرخ 20 فٹ کے خشک کنٹینر کے لیے 3,093 ڈالر اور 40 فٹ کے کنٹینر کے لیے 2,736 ڈالر تھے۔

 

مزید اضافوں کے بعد 15 اگست سے یہ نرخ بالترتیب 5,593 ڈالر اور 5,236 ڈالر ہوگئے۔یہ نرخ کمپنی کے اعلان کردہ بنیادی ٹیرف ہیں، پوری مارکیٹ کی اوسط شرحیں نہیں اور ان میں بعض اضافی اخراجات شامل نہیں ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار ایک اہم یورپی تجارتی راستے پر برآمد کنندگان کو درپیش اخراجات میں اضافے کی رفتار اور حجم کو واضح کرتے ہیں۔عالمی مال برداری کی مارکیٹ میں بھی مسلسل اضافے کے بجائے اتار چڑھا برقرار رہا۔ ڈریوری کا انڈیکس 30 جولائی تک کم ہو کر 4,255 ڈالر ہوگیا تھا، تاہم 20 اگست تک دوبارہ بڑھ کر 4,526 ڈالر پر پہنچ گیا۔ شپنگ سے متعلق مشاورتی ادارے کے مطابق مشرق وسطی میں کشیدگی کے باعث شپنگ کمپنیوں نے ہنگامی ایندھن سرچارج عائد کرنا شروع کیے جبکہ بعض طے شدہ بحری سفر منسوخ ہونے اور خدمات میں تبدیلیوں سے جہازوں کی گنجائش بھی متاثر ہوئی۔ڈریوری کے مطابق اگست کے آخر سے ستمبر کے آخر تک مشرق اور مغرب کے درمیان بڑے تجارتی راستوں پر 49 بحری سفر منسوخ کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جو مقررہ بحری سفر کا تقریبا 6 فیصد ہے۔شپنگ اخراجات میں یہ دبا ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی برآمدات کمزور مالی سال 2025-26 کے بعد بحالی کے آثار دکھا رہی ہیں۔ وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مطابق جولائی 2026 میں اشیا کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 9.4 فیصد بڑھ کر تقریبا 3 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات تقریبا 13 فیصد اضافے سے 3.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔جولائی کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں 3.9 فیصد، غذائی مصنوعات میں 8 فیصد، چمڑے کی مصنوعات میں 7.8 فیصد اور جراحی کے آلات میں 16.3 فیصد اضافہ ہوا۔

خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات

تاہم پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مارچ کے دوران اشیا کی برآمدات 22.7 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 24.7 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہیں۔ غذائی مصنوعات کی برآمدات میں 33.9 فیصد کمی ہوئی جبکہ حکومت نے بعض برآمدی شعبوں کو متاثر کرنے والے عوامل میں لاجسٹک مشکلات اور علاقائی تجارتی راستوں میں تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔پاکستان کی تجارتی اشیا کی نقل و حرکت میں سمندری لاجسٹکس خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران کراچی بندرگاہ سے 4 کروڑ 20 لاکھ 30 ہزار ٹن کارگو نمٹایا گیا جو سالانہ بنیاد پر 4 فیصد زیادہ ہے جبکہ پورٹ قاسم سے 3 کروڑ 64 لاکھ 20 ہزار ٹن کارگو نمٹایا گیا جس میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔جولائی میں ملکی لاجسٹکس پر بھی دبا بڑھا۔ پاکستان کسٹمز کے مطابق کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل اور ساتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل پر آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی مجموعی تعداد میں 14.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ساتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل پر کنٹینرز کی آمد و رفت 12 فیصد بڑھ کر 52,314 ٹی ای یوز ہوگئی۔ اس کے بعد بندرگاہ پر رش کم کرنے اور کلیئرنس کا عمل تیز کرنے کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے۔حکومت نے بھی سمندری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث شپنگ اخراجات پر پڑنے والے اثرات کو تسلیم کیا ہے۔

ستائیس ستمبر ملک کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا دن ہوگا ،سہیل آفریدی

قومی اسمبلی میں ایک سرکاری جواب میں وزارتِ بحری امور نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے دوران جنگی خطرات کی انشورنس کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتے رہے اور ایک موقع پر مال برداری کے نرخ معمول کی مارکیٹ صورتحال کے مقابلے میں پانچ گنا تک بڑھ گئے تھے۔وزارت نے سپلائی چین اور برآمد کنندگان کے تحفظ کے لیے چھوٹے بحری جہازوں کی خدمات، متبادل روابط اور بندرگاہی اخراجات میں ریلیف سمیت مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔فروز 1888 ملز لمیٹڈ کے برآمدات و شپنگ شعبے کے ڈپٹی مینیجر راجا ناصر نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان کا مسئلہ صرف زیادہ شپنگ نرخ نہیں بلکہ ان اخراجات میں غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی نرخوں، ایندھن اور سکیورٹی سرچارجز میں بار بار تبدیلی، جہازوں کی گنجائش میں کمی اور بحری سفر منسوخ ہونے کے باعث برآمد کنندگان کے لیے غیر ملکی خریداروں کو حتمی قیمت اور ترسیل کا مقررہ شیڈول دینا مشکل ہوگیا ہے۔راجا ناصر کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے یہ صورتحال زیادہ مشکل ہے کیونکہ شپنگ کمپنیوں کے ساتھ ان کی سودے بازی کی طاقت کم اور اچانک لاجسٹک اخراجات برداشت کرنے کے لیے منافع کا حجم محدود ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاجسٹکس کی کارکردگی کو برآمدی مسابقت کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔ کارگو کے بندرگاہ پر قیام کا وقت کم کرنا، کسٹمز، ٹرمینلز اور مال برداری کے اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا، براہِ راست شپنگ روابط بڑھانا اور طویل مدتی مال برداری کے معاہدوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی برآمد کنندگان کو اخراجات اور غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔

امریکا میں 36لاکھ برس قدیم میگالوڈون شارک کا دانت دریافت

ان کے مطابق مال برداری سے متعلق بہتر ڈیجیٹل معلومات اور علاقائی سطح پر چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے مضبوط رابطے بھی کھیپ کی منصوبہ بندی بہتر بنانے اور عالمی شپنگ مارکیٹ میں اچانک تبدیلیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ٹریڈ لین مینجمنٹ اوشن فریٹ کے مینیجر محمد عمران نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ مال برداری کے بلند اخراجات بیرونِ ملک پاکستانی مصنوعات کی آخری قیمت میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ ملکی پیداواری اداروں کو اس کے مقابلے میں اضافی آمدنی حاصل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ٹیکسٹائل، ملبوسات، چاول، چمڑے اور دیگر تیار شدہ مصنوعات جیسے قیمت کے حوالے سے حساس شعبوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں پاکستانی برآمد کنندگان کو اسی نوعیت کی مصنوعات فراہم کرنے والے دیگر ممالک سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور ترسیل کے بعد لاگت میں معمولی فرق بھی خریدار کے فیصلے پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

ایران روسی تعاون سے سپرسونک کروز میزائل تیار کرنے لگا، رپورٹ

محمد عمران کے مطابق پاکستان کی برآمدی حکمت عملی میں صرف فیکٹری سے نکلنے کے وقت مصنوعات کی مسابقتی قیمت پر توجہ دینے کے بجائے بین الاقوامی خریدار تک مصنوعات پہنچانے کی مکمل لاگت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ شپنگ کی گنجائش میں اضافہ، متبادل علاقائی تجارتی راستے تیار کرنا، بندرگاہوں اور کسٹمز کلیئرنس کی کارکردگی بہتر بنانا اور بڑی منڈیوں کے ساتھ زیادہ قابلِ اعتماد رابطے قائم کرنا عالمی شپنگ میں بار بار آنے والی رکاوٹوں سے برآمد کنندگان کے متاثر ہونے کے خطرے کو کم کرسکتا ہے۔پاکستان جب برآمدات کی بنیاد پر معاشی ترقی اور زرمبادلہ کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تو بڑھتے ہوئے شپنگ اخراجات اس امر کی اہمیت واضح کرتے ہیں کہ فیکٹری کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ لاجسٹکس کی مسابقتی صلاحیت بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔ بلند اور غیر یقینی مال برداری کے اخراجات برآمد کنندگان کے منافع کو محدود اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی آخری قیمت کو بڑھا سکتے ہیں۔

 

دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40سال بعد پگھل کر ختم ہوگیا

Next Post
پیسکو کارکردگی بہتر بنانے کے منصوبے کی لاگت 30ارب 26کروڑ روپے ہوگئی
Previous Post
نیپال سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1,301ہوگئی