چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا ہے کہ سائبر کرائم ایجنسی کے ساتھ کارروائیوں کے دوران 6 لاکھ شہریوں کے بائیو میٹرک انگوٹھوں کے نشانات برآمد کئے گئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین راجا خرم نواز کی زیرصدارت منعقد ہوا۔چیرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بائیو میٹرک ریکارڈ جہاں موجود ہوتا ہے، وہیں کے سیکیورٹی نقائص کی وجہ سے لیک ہوتا ہے، جس کی روک تھام کیلئے درا اور موبائل کمپنیوں کے ساتھ مل کر سسٹم کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
پچاس ہزار کا بل، ریٹائرڈ ملازم دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا
پی ٹی اے نے سائبر کرائم کے ساتھ مل کر 125 چھاپے مارے، جن کے دوران 25 ہزار غیر قانونی سمیں برآمد اور 171 افراد کو گرفتار کیا گیا۔گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے عرصے میں 18 لاکھ غیر قانونی سمیں بلاک کی گئیں۔ اب ایک شخص کے نام پر 5 سے زائد سمز کے اجرا پر مکمل پابندی ہے۔رکن کمیٹی خواجہ اظہار الحسن نے نشاندہی کی کہ غیر قانونی سموں کی وجہ سے بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملک میں یو کے کی سمیں سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے تشویش ظاہر کی کہ ملک میں فراڈ کیلئے بینک اکائونٹس بھی کرائے پر مل رہے ہیں۔انہوں نے پی ٹی اے کو اپنے سیکیورٹی فیچرز میں فوری بہتری لانے کی ہدایت کی۔
عدالتی حکم کے باوجود پیسکو ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی جاری

